مخالفین وائس چیئرمین علی نواز اورساتھیوں نے میرے بیٹے کو اغوا کر لیا،غلام مصطفیٰ دستی کا الزام

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے )بدین تعلقہ کے گاؤں بُڈھو دستی کے رہائشی غلام مصطفیٰ دستی نے بدین پریس کلب کے سامنے احتجاج کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ روزگار کے سلسلے میں ہم بدین میں رہائش پذیر ہیں۔میرا بیٹا احسان علی چند روز قبل میرے چچا کی چالیسویں میں شرکت کے لیے گاؤں بُڈھو دستی گیا تھا،جہاں ہمارے مخالفین وائس چیئرمین علی نواز دستی، عبدالجبار، خمیسو دستی اور ارشد دستی نے میرے بیٹے کو اغوا کر لیا انہوں نے اس سے اسی ہزار روپے نقد اور ڈیڑھ لاکھ روپے مالیت کی سونے کی منڈی اور لاکٹ چھین لیے اور کئی گھنٹوں تک ایک گھر میں یرغمال بنا کر اس پر تشدد کرتے رہے۔ گاؤں والوں کی مداخلت پر انہوں نے میرے بیٹے کو آزاد کر دیا میں نے اس واقعے کی رپورٹ نندو تھانے میں درج کرائی ہے، لیکن نندو پولیس ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایس ایس پی کو بھی درخواست دی ہے، مگر ہمیں کوئی انصاف نہیں مل رہا انہو نے کہا کہ ملزمان کی جانب سے مجھے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں انہوں نے آئی جی پی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے اپیل کی ہے کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے.



