بدین،نشہ آور چیز استعمال کرنے سے نوجوان جاں بحق،ورثا کا احتجاج

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)نندو شہر میں عید کے دن زیادہ آئس (نشہ آور شے) استعمال کرنے کے باعث ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی لاش رکھ کر نندو تھانے کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ نندو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے آئس فروخت کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا۔ ایس ایچ او نندو دھرنے میں پہنچے اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرانے پر دھرنا ختم کر دیا گیا۔ نوجوان کی لاش گھر پہنچنے پر عید کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں
نندو میں عید کے روز زیادہ آئس استعمال کرنے کے باعث ملاح محلے کا رہائشی 21 سالہ نوجوان ذیشان علی پٹھان بے ہوش ہو گیا۔ جسے ورثاء انڈس اسپتال بدین لے گئے، جہاں حالت خراب ہونے پر اسے سول اسپتال حیدرآباد منتقل کیا گیا، مگر وہاں وہ دم توڑ گیا۔
نوجوان کی موت اور منشیات کے خلاف پولیس کی عدم کارروائی پر ورثاء، شہریوں اور سماجی رہنماؤں نے لاش اٹھا کر نندو تھانے کے سامنے دھرنا دیا۔ اس موقع پر متوفی کے ورثاء لالا پٹھان، رجب پٹھان اور شہری اللہ بچایو بھرگڑی و دیگر نے کہا کہ نندو شہر میں منشیات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی، جس کی وجہ سے نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے، مگر پولیس منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے
ورثاء اور شہریوں کے دھرنے میں یکجہتی کے طور پر نندو ٹاؤن کے چیئرمین الطاف حسین میمن بھی پہنچ گئے۔ دو گھنٹے جاری رہنے والے دھرنے کے دوران ایس ایچ او نندو مول چند میگھواڑ موقع پر پہنچے اور ورثاء و رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا دوسری جانب، نوجوان کی لاش گھر پہنچنے پر عید کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہو گئیں۔ ادھر ایس ایچ او نندو نے شہر میں کارروائی کرتے ہوئے آئس فروخت کرنے والے مہر علی شاہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔



