اسرائیل کا تباہی چھپانے کیلئے صحافیوں پر تشدد،ایران نے امریکی بیڑے کو1000کلومیٹر پیچھے دھکیل دیا

​تہران/تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے/خصوصی رپورٹ)مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں اسرائیل اپنے نقصانات کو دنیا سے چھپانے کے لیے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں ایک چینی میڈیا انفلوئنسر نے جب ایرانی میزائل حملوں کی فوٹیج بنانے کی کوشش کی تو اسرائیلی فوجیوں نے نہ صرف اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کا موبائل فون چھین کر تمام ثبوت اور ڈیٹا بھی مٹا دیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران کے ‘فتح-2’ اور ‘خرم شہر-4’ میزائلوں نے اسرائیل کے اندر تباہی کا ایسا منظر نامہ برپا کیا ہے جسے چھپانے کے لیے اسرائیل ہر حد پار کر رہا ہے۔

​ادھر ایران نے امریکی بحری بیڑے ‘یو ایس ایس ابراہام لنکن’ کو تین اطراف سے ڈرون حملوں کا نشانہ بنا کر اسے ایرانی حدود سے 1000 کلومیٹر دور بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کرنے کے دعووں کو مضحکہ خیز قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ خلیج میں امریکی تیل بردار جہاز پر کیا گیا حملہ ان کے شہید ہونے والے 80 اہلکاروں کا بدلہ تھا اور اب آپریشن کا اگلا مرحلہ دشمن کے لیے اس سے بھی زیادہ دردناک ثابت ہوگا۔ ایران کے مطابق ان کی اصل طاقت پرانے جہاز نہیں بلکہ وہ جدید ڈرونز اور میزائل ہیں جن کے سامنے آج دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقتیں بھی گھٹنے ٹیکتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button