ایران عالمی معاہدے سے آزاد،امریکاکو12گھنٹے کا الٹی میٹم ” فوری معافی مانگو ورنہ” ؟

تہران/اسلام آباد(خصوصی تجزیہ/جانو ڈاٹ پی کے)ایران نے اپنی ایٹمی پالیسی میں ایک بڑے اور تاریخی شفٹ کا اعلان کرتے ہوئے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (NPT) سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ میں اس حوالے سے ایک ہنگامی اور فاسٹ ٹریک بل پیش کیا گیا ہے، جس کی تصدیق سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ اور ‘پریس ٹی وی’ نے بھی کر دی ہے. تہران کی ٹاپ ٹیر قیادت کی شہادتوں کے بعد ایرانی موقف میں مزید سختی پیدا ہوئی ہے اور اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ ایران اب کسی قانونی رکاوٹ کے بغیر 90 فیصد تک یورینیم افزودہ کر سکے گا، جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار ہوتی ہے۔
سعودی عرب اور ترکیہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی تو وہ بھی اپنی جوہری پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایٹمی ہتھیار بنانے پر مجبور ہوں گے۔ اس طرح مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی ایٹمی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے، جو اسرائیل کی نام نہاد ‘جوہری بالادستی’ کو بھی ختم کر دے گا۔ دوسری جانب، ایران میں تہران یونیورسٹی پر اسرائیلی بمباری کے بعد آئی آر جی سی (IRGC) نے امریکہ کو 12 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ اس حملے پر معافی مانگے، ورنہ خطے میں موجود امریکی تعلیمی اداروں کے کیمپسز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے اس فیصلے نے اسلام آباد میں جاری امن مذاکرات کے لیے بھی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران اور آئی آر جی سی کے درمیان پالیسی میں ہم آہنگی نہ ہوئی تو خطہ ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس سے نکلنے کا راستہ شاید کسی کے پاس نہیں ہوگا۔



