پاکستانی ٹینکرکا آبنائے ہرمز سےگزرنا ایران کے منظور شدہ راستےکی نشاندہی کرتا ہے، بلومبرگ

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)پاکستانی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایران کے ساحل کے قریب رہ کر نکلنے والا تازہ ترین جہاز بن گیا ہے۔
امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق پاکستانی پرچم بردار جہاز "کراچی” اتوار کے روز ایرانی جزائر لارک اور قشم کے درمیان ایک تنگ راستے سے گزرا، جس کے بعد وہ ساحل کے ساتھ ساتھ خلیج عمان کی جانب بڑھا، پاکستان کی جانب رواں دواں بحری جہاز پر 8 کروڑ لیٹر سے زائد تیل ہے۔
پاکستانی ٹینکر ایرانی ساحل کے قریب سےگزر کر محفوظ راستےکی علامت بن گیا ہے، ایران کا غیر رسمی میرین ٹریفک کنٹرول نظام بھی سامنے آیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستانی ٹینکر کا آبنائے ہرمز سے گزرنا ایران کے منظور شدہ راستے کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے پتا چلتا ہےکہ جہازوں کو گزرنےکے لیے ایرانی منظوری لازمی ہے، بھارت اور ترکیے سمیت کئی ممالک نے ایران سے محفوظ راہ داری مانگ لی ہے، بیمہ کمپنیاں اور بینک ایرانی راستے پر بڑھتے خطرات سے پریشان ہیں ۔
بلومبرگ کے مطابق ایرانی بندرگاہ پر رکنے والے دو کارگو جہازوں نے بھی پیر کی صبح یہی راستہ اختیار کیا اور اپنی لوکیشن بھی ظاہر کرتے رہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے معاشی مشیر کیون ہیسیٹ کا کہنا ہےکہ آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز جانا شروع ہوگئے ہیں۔
امریکی میڈيا سےگفتگو میں انہوں نےکہا کہ ایران جنگ مہینوں میں نہیں ہفتوں میں ختم ہوسکتی ہے، ٹرمپ اس معاملے کو انجام تک پہنچائے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے، تشویش ہے کہ ایشیائی ممالک امریکا کو تیل فروخت کرنے والی برآمدات میں کمی کرسکتے ہیں، ایندھن مارکیٹ کے استحکام پر چین اور امریکا کے مقاصد ایک ہیں ۔



