لاڑکانہ: جونیئر ذوالفقار علی بھٹو کامقامی شہد کی مکھیوں کے خاتمے پر تشویش کا اظہار، تحفظ کا مطالبہ

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) جونیئر ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ میں مقامی مکھیوں کے تیزی سے خاتمے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے، لاڑکانہ کے المرتضٰی ہاؤس سے اپنے جاری کردہ وڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ انہیں شہد کی مکھیاں بے حد پسند ہیں، جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی موجود ہے اور یہ قدرتی نظام کے توازن میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ لاڑکانہ اور کراچی میں سندھی مکھیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں تاہم افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مقامی چھوٹی مکھیاں تقریباً ناپید ہو چکی ہیں، ان کے مطابق اس وقت موجود بڑی مکھیاں بظاہر پنجاب سے آئی ہوئی معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کی اصل نسل بیرون ملک، خصوصاً یورپ اور یوکرین سے درآمد شدہ گندم کے ذریعے یہاں پہنچی جو نہ صرف زہریلی ہیں بلکہ مقامی انواع کے لیے خطرہ بھی بن چکی ہیں، جونیئر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ انہیں شہید کی مکھیوں نے کئی مرتبہ کاٹا جس کے اثرات ان کے چہرے پر نمایاں ہیں، اس کے باوجود وہ جانوروں اور قدرتی حیات سے محبت کی بنا پر انہیں نقصان نہیں پہنچاتے، انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ جن افراد کو الرجی ہے وہ خصوصی احتیاط کریں تاکہ مکھیوں کے کاٹنے سے محفوظ رہ سکیں، انہوں نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور مقامی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے، ماہرین کے مطابق شہد کی مکھیاں زرعی پیداوار، ماحولیاتی توازن اور غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہیں، اور ان کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے.



