کراچی: اجتماعی شادیوں کی تقریب میں 75 ہندو جوڑے رشتہ ازدواج سے منسلک

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)پاکستان ہندو کونسل کی جانب سے کراچی میں منعقدہ سالانہ اجتماعی شادیوں کی تقریب میں 75 جوڑوں نے ہندو مذہبی رسومات کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھ کر نیا زندگی کا آغاز کیا۔ تقریب میں پنڈت کی موجودگی میں سات پھیرے اور سات وچن کی رسم ادا کی گئی۔

یہ تقریب ہر سال جنوری میں پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اور سیاسی رہنما ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کی قیادت میں منعقد کی جاتی ہے، جس کا مقصد کم وسائل رکھنے والے خاندانوں کے نوجوانوں کو باعزت انداز میں شادی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ 19ویں اجتماعی شادیوں کی تقریب تھی اور اس کے تحت سندھ بھر سے کم وسائل رکھنے والے جوڑے شامل ہوئے۔

تقریب میں ایک ہی گھر کی تین بیٹیاں اوما، گیتا اور شیلا بیک وقت شادی کے بندھن میں بندھیں، جو اس تقریب کو منفرد بنا رہا تھا۔ دلہنوں کی تائی نے بتایا کہ موجودہ مہنگائی میں شادی اور جہیز کے اخراجات برداشت کرنا آسان نہیں، اسی لیے تینوں بیٹیوں کے منڈپ ایک ساتھ سجانے کا فیصلہ کیا گیا۔ گیتا کے دولہا آکاش کے مطابق رشتہ آٹھ برس سے طے تھا اور ایک سال قبل منگنی ہوئی تھی۔

تقریب میں کراچی کے علاوہ سندھ کے مختلف اضلاع سے بھی دولہا دلہن شریک ہوئے۔ دلہنوں نے روایت کے مطابق لمبا گھونگھٹ اوڑھا ہوا تھا جبکہ دولہوں نے موتیوں سے پروئے سہرے زیب تن کیے تھے۔ پنڈال میں شادی کے گیت گونج رہے تھے اور رقص و جشن کا سماں باندھا ہوا تھا۔

رسومات کے دوران پنڈت نے پھیرے کروائے، دلہن کی مانگ بھری گئی، دولہا نے منگل سوتر پہنایا اور آخر میں سات وچن مکمل کر کے شادی کی رسم مکمل کی گئی۔

ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کے مطابق اجتماعی شادیوں کی رجسٹریشن سے قبل یہ تصدیق کی جاتی ہے کہ تمام دولہا دلہن کی عمر کم از کم 18 سال ہو۔ ہر سال تقریباً 125 جوڑوں کو اس پروگرام کے تحت باعزت انداز میں شادی کے بندھن میں باندھا جاتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button