حزب اللہ کا اسرائیل پر ابتک کا سب سے بڑا میزائل حملہ ، بھاری نقصان کا خدشہ، شہری بنکرز میں پناہ لینے پر مجبور

بیروت(جانوڈاٹ پی کے)حزب اللہ نے لبنان سے اب تک کا طویل فاصلے تک کے مار کرنے والے راکٹوں سے اسرائیلی دارالحکومت سمیت وسطی اور شمالی علاقوں پر حملہ کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے راکٹس آسمان پر اُڑتے جیسے ہی اسرائیل کے قریب پہنچے صیہونی ریاست میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور افراتفری مچ گئی۔
اسرائیلی شہری دیوانہ وار اپنی محفوظ پناہ گاہوں ’’زیر زمین بنکرز‘‘ کی جانب بھاگے اور اندر داخل ہوگئے تاکہ اپنی جانیں بچا سکیں۔
یہ اب تک کا حزب اللہ کا اسرائیل پر اب تک کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل حملہ تھا جس میں ممکنہ طور پر بھاری نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی دارالحکومت میں پہلے ہی ریڈ الرٹ جاری کیا ہوا ہے اور تازہ حملوں سے شہریوں میں مزید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ایمبولینسوں اور ریسکیو اداروں کی ٹیموں کو دارالحکومت کے مختلف مقامات کی جانب جاتے دیکھا گیا ہے۔
جبکہ دوسری جانب امریکا نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔
دوسری جانب اسرائیل سے امریکی شہریوں کے انخلا کا کام مزید تیز کردیا گیا جن کی تعداد 500 کے لگ بھگ ہے۔
واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تقریباً 500 امریکی شہریوں سے براہ راست رابطے میں ہے تاکہ انھیں بحفاظت واپس بلایا جاسکے۔
محکمہ خارجہ کے اہلکار نے مزید بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اب تک سیکڑوں امریکی شہری اسرائیل چھوڑ چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ چند روز قبل 130 امریکی شہریوں کو اسرائیل سے نکالا جب کہ آج تقریباً ایک سو شہری روانہ ہونے والے ہیں۔
امریکی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مدد کے لیے دیے گئے ہنگامی نمبر پر رابطہ کریں اور اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام میں رجسٹر ہوں تاکہ تازہ معلومات حاصل کر سکیں۔
یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ روز خطے کے ایک درجن سے زائد ممالک میں موجود امریکیوں کو فوری طور پر وہاں سے نکلنے کی ہدایت بھی کی تھی۔
جس میں کہا گیا تھا کہ جتنی جلدی ممکن ہو کمرشل پروازوں کے ذریعے اسرائیل سے کسی بھی محفوظ ملک کی جانب روانہ ہو جائیں اگرچہ خطے کی بیشتر فضائی حدود جزوی طور پر بند ہیں۔
عالمی عوامی امور کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈیلن جانسن نے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ سے نکلنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے فوجی طیاروں اور چارٹرڈ پروازوں کا بندوبست بھی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق حکام بیرون ملک موجود تقریباً تین ہزار امریکیوں سے براہ راست رابطے میں ہیں۔



