بالائی علاقوں میں شدید برفباری، کئی فٹ برف جمع] شاہراہیں بند، بجلی و مواصلات معطل، نظامِ زندگی مفلوج

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) ملک کے بالائی علاقوں میں شدید اور مسلسل برفباری کے باعث نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ مختلف سیاحتی و پہاڑی علاقوں میں کئی فٹ تک برف جمع ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں اہم شاہراہیں بند، بجلی و مواصلات کا نظام درہم برہم اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
مالم جبہ میں 3 فٹ جبکہ زیارت میں ایک فٹ سے زائد برف پڑ چکی ہے۔ گلیات، نتھیا گلی اور ٹھنڈیانی میں بھی ایک ایک فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ کمراٹ اور گلیات کی تمام مرکزی اور رابطہ شاہراہیں مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں گزشتہ پانچ روز سے بجلی کی فراہمی معطل ہے، جس کے باعث خوراک اور ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔
ملکہ کوہسار مری میں 9 انچ تک برفباری ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد مال روڈ، جھیکا گلی اور نتھیا گلی کو سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق صرف پیشگی بکنگ رکھنے والے سیاحوں کو محدود اجازت دی جا رہی ہے۔ شوگران جانے والی سڑک بھی بند ہو چکی ہے، تاہم ناران سے کاغان تک بعض راستے بحال کر دیے گئے ہیں۔ چترال اور سوات کی سڑکیں صرف فور بائی فور گاڑیوں کے لیے کھولی گئی ہیں۔
بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، قلات، مستونگ، کان مہترزئی، مسلم باغ اور چمن میں بھی برف کی موٹی تہ بچھ گئی ہے۔ آزاد کشمیر میں باغ کے مقام پر برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ وادی نیلم میں گزشتہ پانچ سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ بالائی وادی نیلم میں 6 فٹ سے زائد برفباری ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث بجلی اور مواصلاتی نظام شدید متاثر ہوا اور شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
پیر چناسی، بالائی نیلم، لیپہ ویلی، سدھن گلی، لسڈنہ اور محمود گلی سمیت متعدد بالائی علاقوں کی شاہراہیں تاحال بند ہیں۔ متعلقہ اداروں کے مطابق برف ہٹانے اور سڑکوں کی بحالی کے لیے آپریشن جاری ہے، تاہم موسم کی شدت کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔



