زیادہ نمک کا استعمال دل کی بیماری کا بڑا سبب، نئی تحقیق میں انکشاف

لندن(جانوڈاٹ پی کے)ہارٹ فیلیئر ایسی طویل المعیاد بیماری ہے جس کے دوران جسم کے لیے دل مناسب مقدار میں خون پہنچانے سے قاصر ہوجاتا ہے۔

یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ دل کام کرنا بند کر دیتا ہے، بس وہ پہلے کی طرح ٹھیک کام نہیں کر پاتا۔

اس بیماری کا علاج نہیں بلکہ ادویات کی مدد سے اسے بڑھنے سے روکا جاتا ہے۔

اب ایک نئی تحقیق میں اس کا خطرہ بڑھانے والی ایک بہت عام وجہ دریافت کی گئی ہے اور وہ ہے نمک کا زیادہ استعمال۔

جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی ایڈوانسز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ غذائی نمک کی زیادہ مقدار کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں 25 ہزار سے زائد افراد کے طبی ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔

اس ڈیٹا میں ان افراد کی غذائی عادات اور دل کی صحت پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بیشتر افراد 4269 ملی گرام نمک کا استعمال روزانہ کرتے ہیں حالانکہ طبی اداروں کی جانب سے 2300 ملی گرام نمک کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق نمک کے زیادہ استعمال کے علاوہ ناقص غذا، زیادہ کیلوریز کا استعمال، ہائی بلڈ پریشر اور خون میں چکنائی کی زیادہ مقدار سے بھی ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر آپ غذا میں نمک کی مقدار میں معمولی کمی لاتے ہیں تو اس سے بھی آئندہ 6 برسوں میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 6.6 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ معتدل مقدار میں نمک کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر کے کیسز کی تعداد میں نمایاں حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button