غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالےکرنے کیلئے تیار ہیں:حماس

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی)کے حوالے کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ترجمان  حازم قاسم  نے بتایا ہےکہ  حماس غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالےکرنےکے لیے تیار ہے۔

حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے آئندہ  مرحلے میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے عمل کو کامیاب بنانےکے لیےکردار ادا کریں گے۔ ہماری تیاری مکمل ہے اور کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں جو غزہ میں تمام شعبوں کا انتظام  ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی نگرانی کریں گی۔

حازم قاسم نے مطالبہ کیا کہ رفح کراسنگ کو اسرائیلی مداخلت کے بغیر دونوں سمت سے کھولا جائے، ہم جنگ بندی معاہدے پرسختی سےعمل درآمد کر رہے ہیں، جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تمام ذمہ داریاں پوری کیں اور اب  دوسرے  مرحلےکے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

حماس ترجمان کا کہنا تھا کہ  فلسطینیوں کے حقوق کی واپسی تک جدوجہد کو جاری  رکھا جائےگا اور ایک خودمختار فلسطینی ریاست  جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، اس کے قیام تک جدوجہد جاری  رہےگی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے دوبارہ  جنگ مسلط کرنے یا غزہ کی تعمیر نو میں رخنہ ڈالنے کے تمام بہانوں کو سبوتاژ کیا جائےگا۔

خبر ایجنسی کے مطابق 15 رکنی کمیٹی فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک ٹیم ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں 10 اکتوبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلانے کی ذمہ دار ہوگی اور یہ بورڈ آف پیس کی نگرانی میں کام کرےگی جس کی سربراہی خود ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سربراہ فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث ہیں، توقع ہے کہ کمیٹی کے ارکان رفح کراسنگ کھلنے کے بعد غزہ میں داخل ہوں گے۔

خیال رہےکہ رفح کراسنگ غزہ کا واحد راستہ ہے جو اسرائیل کی جانب نہیں جاتا، مصر کے ساتھ واقع یہ کراسنگ اشیائے خورونوش اور لوگوں کی آمد و رفت کا اہم ذریعہ ہے۔

مزید خبریں

Back to top button