ہالا کو ماڈل سٹی بنانے کی جانب اہم پیش رفت، مستقبل کے ماسٹر پلان پر جامع سیمینار

ہالا (رپورٹ: امجد راجپوت، نمائندہ جانوڈاٹ پی کے) ہالا شہر کے مستقبل کے ماسٹر پلان کے حوالے سے ہالا جمخانہ میں ایک اہم سیمینار منعقد ہوا، جس کا اہتمام سندھ حکومت کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور اربن ریجنل پالیسی اینڈ اسٹریٹجک پلاننگ ونگ نے مشترکہ طور پر کیا۔ سیمینار میں ہالا کو ایک ماڈل سٹی بنانے کے لیے تجویز کردہ ماسٹر پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سیمینار میں شہر کی آئندہ ترقیاتی سمت، سابقہ مشاورتی اجلاسوں کے دوران اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے دی گئی سفارشات اور شہری منصوبہ بندی کے اہم پہلوؤں پر جامع گفتگو کی گئی۔ تقریب کا مقصد تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ہالا شہر کے لیے طویل المدتی اور پائیدار شہری ترقی کی حکمتِ عملی ترتیب دینا تھا۔

تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو اقرا جنت، اسسٹنٹ کمشنر ہالا ڈاکٹر مظاہر، سینئر سرکاری افسران، پلاننگ کنسلٹنٹس، سیاسی نمائندگان، مختلف سرکاری محکموں اور شہری اداروں کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اربن ریجنل پالیسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ذوالفقار علی کنبھار، ڈپٹی ڈائریکٹر نبیش اختر میمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مراد ابڑو اور کنسلٹنٹ سید بابر علی شاہ نے ہالا ماسٹر پلان کی تیاری، مقاصد اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی شمولیت اور مقامی سطح پر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کوئی بھی ماسٹر پلان کامیاب نہیں ہو سکتا۔

اے اے کنسلٹنگ کے نمائندے سید بابر علی شاہ نے بتایا کہ ہالا کا ماسٹر پلان سندھ حکومت کے اس جامع منصوبے کا حصہ ہے جس کا آغاز 2013 میں صوبے کے بڑے شہروں کی منظم ترقی کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 17 شہروں کے ماسٹر پلان مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ ہالا، ٹنڈو آدم، کوٹری اور مورو سمیت کئی شہروں پر تیسرے مرحلے کے تحت کام جاری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ماسٹر پلان آئندہ بیس برسوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے، جس میں صحت، تعلیم، صاف پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ، گرین بیلٹس، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ذوالفقار علی کنبھار نے کہا کہ ہالا میں بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری پھیلاؤ کے پیش نظر منظم اور پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ غیر منظم ترقی بنیادی ڈھانچے اور وسائل پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔ انہوں نے شہری نمائندگان اور اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ اپنی تجاویز اور مقامی معلومات فراہم کریں تاکہ ماسٹر پلان کو زیادہ مؤثر اور قابلِ عمل بنایا جا سکے۔

سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب اور تبادلۂ خیال کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے شہر کی مجموعی ترقی، سہولیات کی بہتری اور پائیدار شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے قیمتی تجاویز پیش کیں۔

مزید خبریں

Back to top button