ایرانی بحریہ نے نئی تیز رفتار کشتی“حیدر-110”متعارف

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس تیز رفتار کشتی “حیدر-110” متعارف کرا دی ہے، جو 110 ناٹ تک رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ رفتار اسے خطے کی تیز ترین ملٹری اسپیڈ بوٹس میں شامل کرتی ہے، جس سے ایران کی بحری کارروائیوں میں تیزی اور مؤثریت مزید بڑھ جائے گی۔

جدید اسلحہ اور حکمتِ عملی

“حیدر-110” کو جہاز شکن (اینٹی شپ) میزائلوں سے لیس کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد دشمن بحری جہازوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے۔ اس پلیٹ فارم کی خاص بات اس کی تیز رفتاری اور اچانک حملے کی صلاحیت ہے، جو اسے گوریلا طرز کی بحری حکمتِ عملی کے لیے موزوں بناتی ہے۔

خطے میں بحری طاقت کا توازن

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی کشتی کی شمولیت سے ایران کی سمندری دفاعی اور حملہ آور صلاحیت میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں میں۔ تیز رفتار اور میزائل بردار کشتیوں کی موجودگی ایران کی “اسوارم ٹیکٹکس” (Swarm Tactics) حکمتِ عملی کو بھی مضبوط بناتی ہے، جس میں متعدد چھوٹے مگر تیز رفتار پلیٹ فارمز مل کر بڑے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

دفاعی خود انحصاری کا مظہر

ایرانی حکام کے مطابق “حیدر-110” ملک کی دفاعی خود کفالت اور مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفت کا ثبوت ہے۔ حالیہ برسوں میں ایران نے بحری اور میزائل ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کا مقصد اپنی سرحدوں اور سمندری مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

حیدر-110 کی شمولیت نہ صرف ایران کی بحری قوت میں اضافہ ہے بلکہ خطے کی اسٹریٹجک صورتحال پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دفاعی مبصرین اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری عسکری توازن کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button