پاکستان میں منہ کا کینسر پھیلانے کی بھارتی سازش،بھارتی گٹکا نے سندھ میں پنجے گاڑلئے

صرف برآمد کیلئےبھارتی سفینہ گٹکا پاکستان پر خاموش حملہ ہے،سریندر ولاسائی

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)بلاول ہاؤس کراچی کے ترجمان اور رکن سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے کہا ہے کہ ’’صرف برآمد کے لیے‘‘ کے لیبل کے تحت بھارت میں تیار کیا جانے والا سفینہ گٹکا پاکستان میں داخل ہو کر پاکستانی نسلوں کو تباہ کرنے کی ایک خاموش سازش ہے۔

انہوں نے یہ خیالات سوشل میڈیا پر جاری ایک تحقیقاتی رپورٹ میں ظاہر کیے، جس میں سفینہ اور اس جیسے دیگر مضر صحت مصنوعات کے خطرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

سریندر ولاسائی کے مطابق بھارت میں دھنیش پاؤچز پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے تیار کیا جانے والا گٹکا پاکستان میں خاموشی سے عوامی صحت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور منہ اور گلے کے کینسر سمیت دیگر مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے۔ صنعت سے وابستہ اندازوں کے مطابق جودھپور میں قائم یہ کمپنی ایک ہی سال میں سفینہ سمیت خطرناک تمباکو مصنوعات سے 698.90 کروڑ روپے کماتی رہی ہے۔ ان مصنوعات پر ’’صرف برآمد کے لیے‘‘ کا لیبل لگا ہوتا ہے، جس کے باعث یہ بھارت میں استعمال سے محدود رہتی ہیں، مگر پاکستان کی مارکیٹوں میں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میرپورخاص ڈویژن پاکستان میں سفینہ اور اس جیسے دیگر گٹکوں کا بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں تھرپارکر اور عمرکوٹ سب سے زیادہ متاثر اضلاع ہیں۔ یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ یہ پسماندہ اضلاع اس قدر خطرناک مصنوعات کا ہدف کیوں بنے ہوئے ہیں، حالانکہ گٹکا کے استعمال اور منہ کے کینسر، گلے کی بیماریوں اور دانتوں کے شدید مسائل کے درمیان تعلق ثابت شدہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس خطرناک تجارت کو روکنے کے ذمہ دار قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی برقرار ہے۔ سرکاری اسپتال قابلِ تدارک بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ سنگین سوال موجود ہے کہ یہ مضر صحت مصنوعات اتنی آسانی سے دستیاب کیسے ہیں اور ان کی اسمگلنگ کے خلاف کوئی واضح کارروائی کیوں نظر نہیں آتی۔

میڈیا سروے رپورٹس کے مطابق میرپورخاص ڈویژن میں10سالہ بچوں سے لے کر50اور60سال کی عمر کے مرد و خواتین تک سفینہ جیسے مہلک نشہ آور مادے استعمال کر رہے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ان خطرناک مصنوعات کا استعمال جنسی کمزوری، ہیٹ اسٹروک، سانس کے امراض، کینسر، منہ کے پٹھوں کا جکڑ جانا، کمزور بچوں کی پیدائش اور متعدد دیگر سنگین صحت کے مسائل کا سبب بنتا ہے۔

جب اس معاملے پر سیاسی اور سماجی شخصیات سے رائے لی گئی تو اکثریت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ ایک قوم کو تباہ کرنے کی سازش ہے، جو نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی کئی نسلوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

طبی ماہرین نے سفینہ گٹکا کے بارے میں بتایا کہ اس کا استعمال انسانی قوتِ مدافعت میں شدید کمی کا باعث بنتا ہے، جسے کمزور ہونے کے بعد بحال کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق قوتِ مدافعت میں کمی سے فیصلہ سازی کی صلاحیت اور صحت مند تولیدی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ذہنی و جسمانی کمزوری اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ اگر سفینہ گٹکا کا استعمال اسی طرح بے قابو رہا تو قومی تباہی ناگزیر ہو جائے گی۔

مزید خبریں

Back to top button