گل پلازہ آتشزدگی: 36 گھنٹوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا، سانحہ میں 14 افراد جاں بحق،22زخمی، 54 لاپتا

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی ہولناک آگ پر 36 گھنٹے بعد قابو پا لیا گیا ہے۔ آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہو گئے جبکہ سرچ آپریشن کے دوران مزید 8 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 14ہوگئی جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔جب کہ 22 افراد زخمی ہوئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ رات سے اب تک ملبے سے ایک بچے سمیت 5 افراد کے اعضا برآمد کیے گئے ہیں، جبکہ 54 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے بتایا کہ مرکزی آگ مکمل طور پر بجھا دی گئی ہے اور اس وقت کولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم عمارت کی مخدوش حالت کے باعث فائر فائٹرز کو اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کے مطابق آگ لگنے کے باعث گل پلازہ کی عمارت مکمل طور پر خستہ حال ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت مزید حصہ گرنے کا خدشہ ہے، اسی لیے فائرفائٹنگ عارضی طور پر روک دی گئی اور صرف ملبہ ہٹانے کا عمل جاری رکھا گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ پولیس نے لاپتا افراد کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے موبائل نمبرز اور دیگر تفصیلات حاصل کر لی ہیں۔ اب تک 26 افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ کے اطراف ملی ہے جبکہ دیگر نمبرز کی اسکرونٹی جاری ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق دھوئیں سے متاثر ہونے والے متعدد افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، جبکہ دو فائر فائٹرز پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں۔ مجموعی طور پر 30 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 13 برنس سینٹر، 15 ٹراما سینٹر اور 2 جناح اسپتال منتقل کیے گئے۔
ریسکیو حکام نے جاں بحق افراد کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں کاشف ولد یونس (40)، فراز ولد ابرار (55)، محمد عامر (30)، فرقان ولد شوکت علی (25) شامل ہیں، جبکہ 5 لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔
زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم (25 سال)، وسیم ولد سلیم (20 سال)، دانیال ولد سراج (20 سال)، صادق ولد نامعلوم (35 سال)، حمزہ ولد محمد علی (22 سال)، رحیم ولد گل محمد (25 سال)، فہد ولد محمد ایوب (20 سال)، جواد ولد جاوید (18 سال)، ایان ولد نامعلوم (25 سال)، عبداللہ ولد ظہیر (20 سال)، عثمان ولد اصغر علی (20 سال)، فہد ولد حنیف (47 سال)، زین ولد عبداللہ (23 سال)، نادر ولد نامعلوم (50 سال) اور دیگر شامل ہیں۔تاحال 59 افراد لاپتا، ناموں کی فہرست سامنے آگئی
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بتایا کہ 55 سے زائد لاپتا افراد کے لواحقین نے فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فائر فائٹرز اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، عوام انتظامیہ سے تعاون کریں اور متاثرہ عمارت سے دور رہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ تاجروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے 26 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکلز اور 10 واٹر باؤزرز نے حصہ لیا، جبکہ پاکستان نیوی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی معاونت فراہم کی۔
سی پی ایل سی کی جانب سے سول اسپتال میں ہیلپ ڈیسک قائم کر دیا گیا ہے، جہاں لاپتا افراد کے لواحقین کی رجسٹریشن جاری ہے۔ حکام کے مطابق ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ اب تک 40 افراد سی پی ایل سی میں رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کولنگ مکمل ہونے کے بعد آگ لگنے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔



