سانحہ گل پلازہ کیس: نامزد ملزموں نے پولیس تفتیش کو عدالت میں چیلنج کردیا

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) سانحہ گل پلازہ کیس میں نامزد ملزمان نے پولیس کی تفتیش کو سیشن عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور متعلقہ سرکاری اداروں کے کردار کی جانچ کا مطالبہ کر دیا۔
ملزمان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کیس کے تفتیشی افسر پرویز بھٹو اصل ذمہ داروں کو بچا کر بے گناہ افراد کو مقدمے میں ملوث کر رہے ہیں، لہٰذا ان کے طرزِ عمل کا عدالتی نوٹس لیا جائے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ ڈپٹی کمشنر جنوبی، چیف فائر افسر، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ سول اداروں کے ذمہ داران کے خلاف مبینہ غفلت اور لاپروائی پر کارروائی کی جائے، جبکہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ڈی آئی جی عرفان بلوچ یا عامر فاروقی کی سربراہی میں حساس اداروں سے کرائی جائیں۔
دوسری جانب گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان، محمد امین، نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ کی درخواستِ ضمانت پر بھی سماعت ہوئی۔
ملزمان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سانحے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے، مگر پولیس نے انتہائی مختصر چالان جمع کرایا، جس میں کسی بھی متعلقہ سول ادارے کی ذمہ داری کا تعین نہیں کیا گیا، جبکہ متاثرین کو ہی مقدمے میں نامزد کر کے انتظامیہ کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس کا چالان دو مرتبہ مسترد ہو چکا ہے، تاہم انہی اعتراضات کے باوجود دوبارہ وہی چالان پیش کیا گیا۔
بعد ازاں عدالت نے تنویر پاستا سمیت پانچ ملزمان کی پانچ، پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کر لی، جبکہ کم عمر ملزم حذیفہ کی دس ہزار روپے کے مچلکے کے عوض عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی۔



