کراچی: گل پلازہ میں آتشزدگی سے فائر فائٹر سمیت6 افراد جاں بحق،30زخمی،عمارت میں دراڑیں،متعددحصے منہدم

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) شہرِ قائد کے ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں گزشتہ شب لگنے والی آگ تاحال بے قابو ہے، فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 30 سے زیادہ افراد زخمی ہیں جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، آگ سے عمارت میں دراڑیں پڑ گئیں، ایک حصہ منہدم ہوگیا، جبکہ پوری عمارت زمین بوس ہونے کا خدشہ ہے
گل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی آگ میں مرنے والوں کی شناخت 40 سالہ کاشف، 55 سالہ فراز، 30 سالہ عامر، 28 سالہ عامر اور ایک نامعلوم شخص شامل ہے، درجنوں زخمیوں میں سے گیارہ افراد کی حالت تشویشناک ہے، شہید فائر فائٹر کی شناخت فرقان علی کے نام سے ہوئی۔
آگ کی وجہ سے عمارت کی حالت مخدوش ہو چکی ہے، ستون کمزور ہوچکے ہیں، عمارت کے کئی حصے گر چکے ہیں جن میں عقبی حصہ بھی شامل ہے، عمارت انتہائی پرانی اور بوسیدہ ہونے کے سبب ساری زمین بوس ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
عمارت میں کپڑے، کراکری، پرفیوم، میک اپ ، الیکٹرانکس، کھلونوں سمیت دیگر دکانیں تھیں، تین منزلہ عمارت میں 12 سو سے زائد دکانیں قائم تھیں، آگ سے گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے، بالائی دو منزلوں پر بھی آگ لگی ہوئی ہے۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا فائر ٹینڈر بھی مدد کے لیے پہنچ چکا ہے، ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن میں پاک بحریہ کی اسنارکلز اور دو فائرٹینڈر بھی شامل ہیں، امدادی کام میں سندھ رینجرز اور کے ایم سی بھی شریک ہیں۔
عمارت میں ہوا کا راستہ نہ ہونے اور کھڑکیاں بند ہونے سے عمارت میں دھویں بھرگیا، شدید دھویں، ہنگامی اخراج کا راستہ نہ ہونے ، پانی کی کمی کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، رات گئے گل پلازہ کے سامنے لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے بھی گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات ہوئیں۔
فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ آگ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، آگ نے مزید کئی دکانوں کو لپیٹ میں لے لیا، 20 سے زائد گاڑیوں کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ اسنارکل کی مدد سے لوگوں کو پلازے سے باہر نکالا جا رہا ہے۔
فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کرلی، جس کے بعد نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق عمارت میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، شاپنگ پلازہ میں کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے، آگ شاپنگ پلازہ کے میزنائن فلور پر لگی ہے، شاپنگ پلازہ گراؤنڈ، میزنائن پلس 2 فلور پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گل پلازہ میں تقریباً چھوٹی بڑی 3 ہزار دکانیں موجود ہیں، پلازے میں سوٹ کیس، کراکری، ڈیکوریشن اور الیکٹرانکس کی دکانیں ہیں، آگ سے گل پلازہ کی متعدد دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سندھ رینجرز کے جوان بھی ریسکیو آپریشن شامل، ترجمان سندھ رینجرز
سندھ رینجرز کے جوان بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، ترجمان رینجرز کے مطابق امدادی آپریشن مکمل ہونے تک رینجرز کے افسران اور جوان جائے وقوعہ پر موجود رہیں گے، فائر ٹینڈرز کے ساتھ ساتھ رینجرز کے جوان پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے اور قیمتی سامان کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ عمارت کے گرد ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے بھی رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی، انسانی جانوں کا تحفظ اور آگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اولین ترجیح ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق 8 گھنٹے قبل لگنے والی آگ پر قابو پانے کی فائر بریگیڈ کو کوششیں جاری ہیں لیکن ریسکیو حکام کی کوششوں کے باوجود آگ دوبارہ بھڑک جاتی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق فائر فائٹرز اور ریسکیو حکام ابھی تک عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکے ہیں جس سے آگ کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جبکہ عمارت کے ستون وغیرہ ٹوٹ کر گرنا شروع ہو چکا ہے۔
بلاول بھٹو کی وزیراعلیٰ سندھ کو تمام وسائل استعمال کرنے کی ہدایات
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے آگ لگنے سے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کیا اور وزیراعلیٰ سندھ و میئر کراچی کو آگ بجھانے کیلئے تمام وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور واقعے کی فوری تحقیقات، آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی ہدایت بھی کی۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے آتشزدگی کا نوٹس لے لیا
وزیر داخلہ سندھ نے گل پلازہ میں آتشزدگی کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ عمارت میں لگی آگ کو پھیلنے سے روکا جائے، اور آگ لگنے کی وجوہات کا پتا لگایا جائے، انہوں نے شہریوں کے فوری انخلاء کیلئے متبادل روٹس لگانے کی بھی ہدایت کی۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے باعث جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں غمزدہ لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں، اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، انہوں نے بلدیہ عظمیٰ کے تمام محکموں کو الرٹ رہنے اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وفاقی سطح پر سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
مصطفیٰ کمال نے پیش کش کی کہ وفاقی سطح پر سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، ریسکیو ادارے متاثرہ عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں، آگ پر جلد از جلد قابو پانا اور مزید جانی نقصان سے بچاؤ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
اسپیکر سندھ اسمبلی کا اظہار تعزیت
اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے گل شاپنگ پلازہ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے اور قیمتی جانوں کے ضیاع و مالی نقصان پر افسوس کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا اور متعلقہ اداروں کو ہر ممکن معاونت کی ہدایت بھی کی ہے۔
اپوزیشن لیڈر کا اظہار افسوس
اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو سانحہ قرار دے دیا۔
علی خورشیدی نے کہا کہ گل پلازہ سانحہ دلخراش ہے، جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، آتشزدگی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونا تشویشناک ہے۔
اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی نے کہا کہ مزید جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے، متاثرین کو ہر ممکن امداد اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔



