گولارچی میں پرانے ٹیکسی سٹینڈ اور مسافر خانے کے پلاٹ بااثر افراد کو دینے پر متاثرین کااحتجاج

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ پی کے)گولارچی شہر میں گزشتہ چند ہفتوں قبل انکروچمنٹ آپریشن کے دوران مسمار کیے گئے شہر کے پرانے ٹیکسی اسٹاپ اور مسافر خانے کے پلاٹ کو شہر کے بااثر افراد کے حوالے کرنے کے خلاف متاثرہ دکانداروں کا احتجاجی دھرنا جاری تفصیلات کے مطابق گولاڑچی شہر میں انکروچمنٹ آپریشن کے دوران تقریباً ایک ماہ قبل ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے خالی کروائے گئے پرانے ٹیکسی اسٹاپ اور مسافر خانے کے پلاٹ کو بااثر افراد کے حوالے کر دیا۔ ٹیکسی اسٹاپ کے قریب موجود تجاوزات قرار دے کر مسمار کردہ مارکیٹ کے پلاٹ کو بھی انکروچمنٹ قرار دے کر مبینہ طور پر دس دس لاکھ روپے کے عیوض شہر کے سرمایہ داروں کو دے دیا گیا اس اقدام کے خلاف بے دخل کیے گئے متاثرہ دکانداروں، جن میں سرور جاکھرو، پریم راٹھوڑ، نصیر احمد جاکھرو، موہن کاریو، روشن چانڈیو اور دیگر شہریوں کی جانب سے گزشتہ روز سے احتجاجی کیمپ قائم کر دیا گیا ہے اس موقع پر متاثرہ کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ چالیس برسوں سے یہاں کاروبار کر کے اپنے بجوں گزر بسر کر رہے تھےمگر ٹاؤن انتظامیہ نے انکروچمنٹ آپریشن کی آڑ میں ان کی دکانیں مسمار کر کے وہی پلاٹ مخصوص بااثر سرمایہ داروں کو بھاری رقوم کے عیوض الاٹ کر دیا انہوں نے کہا کہ وہ اس جگہ پر شہر کے ابتدائی دور سے آباد تھے، مگر اب انہیں زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے جو سراسر زیادتی ہے۔ متاثرین نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت، منتخب نمائندوں، صوبائی وزیر اسماعیل راہو، ایم این اے حاجی رسول بخش چانڈیو، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹاؤن چیئرمین کو اس اقدام سے روکا جائے اور ان کے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے دوسری جانب ٹاؤن چیئرمین عبدالسلام آرائیں نے رابطہ کرنے پر تمام الزامات کو مسترد کر دیا

مزید خبریں

Back to top button