امریکہ کا تکبر پاش پاش،شمالی کوریا کے میزائلوں نے جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا

لاہور(خصوصی رپورٹ)​دنیا اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جہاں دہائیوں سے قائم امریکی تسلط کا بت ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔ صرف دو ہفتوں کی قلیل مدت میں امریکہ کی وہ "سپر پاور” والی شان و شوکت خاک میں مل گئی ہے جس پر وہ ناز کرتا تھا۔ اس بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں سب سے بڑا دھماکہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے کیا ہے، جنہوں نے عین اس وقت 10 بلسٹک میزائل داغ دیے جب امریکہ اور جنوبی کوریا اپنی سالانہ جنگی مشقوں میں مصروف تھے۔ جاپانی وزارتِ دفاع نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب واشنگٹن اور پینٹاگون کے بند کمروں میں خطرے کی سرخ بتیاں جل چکی ہیں۔ امریکہ، جو پہلے ہی خلیج میں ایران کے ہاتھوں اپنے جدید ترین ‘تھاڈ’ (THAAD) ڈیفنس سسٹم کی تباہی کا صدمہ جھیل رہا ہے، اب شمالی کوریا کی اس انٹری سے مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے۔

​خلیج کے میدانِ جنگ میں امریکہ کو پہنچنے والا نقصان ہوش ربا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکہ اس وقت روزانہ ایک ارب ڈالر کی جنگ لڑ رہا ہے، جبکہ حاصل وصول کچھ بھی نہیں۔ ایران نے قطر اور اردن میں موجود امریکی ریڈار سسٹمز کو اڑا دیا ہے، اور اب تک 11 کے قریب مہنگے ترین امریکی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کسی طرح اپنی "فتح” کا جھوٹا اعلان کر کے یہاں سے نکلا جائے، ورنہ یہ جنگ امریکہ کو معاشی طور پر دفن کر دے گی۔ ایران کے جنرل محسن رضائی نے بھی واضح کر دیا ہے کہ جب تک امریکہ اپنے فوجی اڈے ختم نہیں کرتا اور جنگی ہرجانہ ادا نہیں کرتا، حملے جاری رہیں گے۔ امریکہ کا تکبر اب خلیج کے پانیوں میں ڈوب رہا ہے اور دنیا ایک نئے عالمی نظام کی گواہ بننے جا رہی ہے۔

​مزید تفصیلات کے لیے گوہر بٹ کی یہ خصوصی رپورٹ دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button