پاکستانی فضائیہ کا خوف، افغان طالبان قیادت کابل چھوڑ کر فرار

کابل/اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): پاک افغان سرحد اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پاکستانی فضائیہ کے ممکنہ حملوں کے ڈر سے افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کابل اور قندھار سے فرار ہو کر بامیان کے پہاڑوں میں روپوش ہو گئی ہے۔ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی حالیہ بریفنگ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے اب تک 435 افغان جنگجو ہلاک اور ان کی 118 چیک پوسٹیں ملیا میٹ کر دی ہیں۔ دوسری جانب، چین نے ایران کے ‘حقِ دفاع’ کی کھلی حمایت کا اعلان کر کے عالمی طاقتوں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کی بھی تصدیق ہو گئی ہے جس نے دنیا کو ایٹمی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
امریکہ نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ جنگ میں ان کے جدید ترین لڑاکا طیارے گرے ہیں اور بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور کسی بھی مہم جوئی کا جواب ‘دشمن کی تباہی’ سے دیا جائے گا۔ افغان قیادت کے فرار، ایٹمی حملوں اور چین کی انٹری کی مکمل اندرونی کہانی جاننے کے لیے سینیئر صحافی گوہر بٹ کا یہ وی لاگ دیکھئے:



