سیاسی اختلاف نفرت میں نہیں بدلنا چاہیے، ملک کو آگے بڑھانا ہوگا،بیرسٹر گوہر علی خان

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سیاسی اختلاف کو نفرت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اور ملک میں بہتری لانے کے لیے تمام فریقین کو مل بیٹھنا ہوگا۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت وہ ہوتی ہے جو انصاف فراہم کرے، تاہم 3 کروڑ ووٹ لینے والوں کو بھی انصاف نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہونا چاہیے اور حالات کو مزید طول نہیں دینا چاہیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بتایا کہ اہلِ خانہ کو تسلی دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف یہ پیغام دیا گیا کہ بانی کو انجیکشن لگا دیا گیا ہے، اس مرتبہ ڈاکٹر سے براہِ راست بات نہیں ہوئی، بعد ازاں اطلاع ملی کہ انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے اور صحت بہتر ہے۔
گوہر علی خان نے چیف جسٹس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج تیرہواں موقع ہے جب ہم آپ کے سامنے پیش ہوئے ہیں، صرف ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ کو بھیج دینا کافی نہیں، اہلِ خانہ کی ملاقات انتہائی اہم ہے اور ملاقات کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں اب بھی پی ٹی آئی کے کئی کیسز زیر سماعت ہیں۔
انہوں نے رہائی فورس کے معاملے پر پارٹی کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر مشاورت کی گئی ہے اور اس کے سیاسی اثرات ہوں گے، تاہم صوبائی معاملات پر وزرائے اعلیٰ پارٹی کو اعتماد میں لیتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی رہائی عدالت کے ذریعے چاہتی ہے، کسی غیر آئینی اقدام کے ذریعے نہیں، اور پی ٹی آئی سڑکوں سمیت ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔



