صمودفلوٹیلا،برہنہ کیاگیا،40گھنٹےبھوکارکھا،دیواروں پرعربی بچوں کےنام خون سے لکھے تھے،آیکن کانتوگلو

گریٹا تھنبرگ پرتشددکیاگیااورزبردستی اسرائیلی پرچم چومنےپرمجبورکیا گیا

استنبول(jano.pk)صمود فلوٹیلا سے گرفتار کیے گئے ترکیہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن آیکن کانتوگلو نے اسرائیلی فوج کے انسانیت سوز سلوک پر خاموشی توڑ دی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے گرفتار کیے گئے 137 انسانی حقوق کے کارکنوں کو رہا کیا گیا جس کے بعد وہ استنبول پہنچے۔

گریٹا تھنبرگ پرتشدد کیاگیا اورزبردستی اسرائیلی پرچم چومنے پر مجبور کیا گیا

رہائی پانے والے کارکنوں کا تعلق مختلف ممالک سے ہے جبکہ ان میں ترک صحافی بھی شامل ہیں جنہوں نے انکشاف کیا تھا کہ گریٹا تھنبرگ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں اسرائیلی پرچم زبردستی چومنے پر مجبور کیا گیا۔

تم اسرائیل میں ہو،اب کسی بھی جگہ غزہ کا نام نہیں ہے،اسرائیلی اہلکار

استنبول پہنچنے والے ترک کارکن آیکن کانتوگلونے اسرائیلی حراست میں بدسلوکی کی تفصیلات بتائیں اور انکشاف کیا کہ حراست میں لینے کے بعد اسرائیلی اہلکار نے کہا "تم اسرائیل میں ہو، اب کسی بھی جگہ غزہ کا نام نہیں ہے۔آیکن کانتوگلونے کہا کہ ہمیں جانوروں کے پنجرے نما کمروں میں بند کیا گیا،دیواروں پرخون سےعربی میں بچوں کے نام لکھے تھے جبکہ ہمیں 40 گھنٹوں تک بھوکا پیاسا رکھا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ترک کارکنوں کو برہنہ کر کے تلاشی لی گئی جبکہ گریٹا تھنبرگ کے ساتھ بھی بہت برا سلوک کیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button