بدین: جی ڈی اے رہنما جہان خان کھوسو سمیت 4افراد پر گندم کی فصل نذرِ آتش کرنے کے الزام پر کارکن سراپا احتجاج

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)پنگریو تھانے میں جی ڈی اے کے مقامی رہنما جہان خان کھوسو اور ان کے بھانجے  بھتیجے اور ایک نامعلوم سمیت چارافراد کے خلاف گندم کے کھلیان کو نذرِ آتش کرنے کے الزام میں درج مقدمے کے خلاف جی ڈی اے کارکن سراپا احتجاج بن گئے اوررات گئے پریس کلب پنگریو کے سامنے دھرنا دیا۔ احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی اور مقدمے کے اندراج کو سیاسی اور انتقامی کارروائی قرار دیا گیا۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے گلزار ملاح، شعبان کھوسو اور علی احمد کھوسو نے الزام عائد کیا کہ یہ مقدمہ ٹاؤن چیئرمین پنگریو کے ایماء پر درج کیا گیا، جو کہ کھلی سیاسی انتقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہان خان کھوسو نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں چیئرمین کے مقابلے میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، جس کے بعد انہیں مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقررین نے مزید بتایا کہ جہان خان کھوسو اور ٹاؤن چیئرمین کے درمیان دکان کی ملکیت کا تنازع بھی طویل عرصے سے چل رہا تھا، جس کا فیصلہ عدالت اور مقامی پنچائت دونوں سطحوں پر جہان خان کھوسو کے حق میں ہوا، لیکن اس کے باوجود انہیں مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنگریو پولیس نے جہان خان کھوسو اور ان کے قریبی رشتہ داروں کو ان کی دکان سے گرفتار کیا اور بعد ازاں انہیں گندم کے کھلیان کو آگ لگانے کے واقعے میں ملوث ظاہر کیا، جو کہ سراسر ناانصافی اور سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ مقامی سطح پر شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی پامالی ہے۔ احتجاجی مظاہرین نے آئی جی سندھ سے فوری مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور بروقت انکوائری کرائی جائے تاکہ بے گناہ افراد کو فوری طور پر رہا کیا جا سکے اور ان کے نام پر لگائے گئے الزامات کو ختم کیا جائے۔ مقررین نے خبردار کیا کہ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور وہ صوبائی سطح تک اپنا احتجاج پہنچائیں گے۔ مظاہرین نے پنگریو کے تاجروں اور شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ منگل کے روز اپنا کاروبار بند رکھیں تاکہ احتجاج ریکارڈ کرایاجاسکے۔ دھرنے میں شریک کارکنان نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف جی ڈی اے رہنما کے خلاف انتقام ہے بلکہ مقامی سطح پر سیاسی منافرت انتقامی کاروائی اور دھونس کی واضح مثال بھی ہے، اور مقامی پولیس اور انتظامیہ کی غیر ذمہ دارانہ کارکردگی کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو عوامی اعتماد کو بحال کریں اور آئندہ کسی بھی سیاسی رہنما یا شہری کے ساتھ اس قسم کے غیر قانونی اقدامات نہ ہوں

مزید خبریں

Back to top button