امریکا کا ’’نیوغزہ‘‘ کا منصوبہ پیش،عزہ کو دبئی طرز کے جدید شہر میں بدلنے کا عندیہ

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکا نےغزہ پیس بورڈ کے بعد غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ بھی پیش کر دیا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ پیس بورڈ لانچ کرنے کے بعد ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے عالمی اقتصادی فورم میں غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ’نیوغزہ’ پیش کیا۔
کشنر کا کہنا تھا کہ غزہ کی دو سالہ جنگ میں 90 ہزار ٹن گولہ بارود کے استعمال سے ہزاروں جانیں گئیں اور 60 ملین ٹن سے زیادہ ملبے کا ڈھیر بنا، جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کی جائےگی۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے بقول یہ سب غزہ کے لوگوں کے لیے ہوگا، غزہ کو مختلف زونز میں تقسیم کیا جائےگا، ہم رفح سے آغاز کریں گے، جہاں مزدوروں کی رہائش کا انتظام ہوگا، غزہ میں ملبہ ہٹانے کا کام پہلے ہی شروع ہوگیا ہے، اس کے بعد نیا غزہ ہوگا، نئی امید کے ساتھ جہاں بہت سی صنعتیں ہوں گی۔
کشنر نے ایک سلائیڈ شو پیش کیا جس میں ‘نیوغزہ’ کا ماسٹر پلان دکھایا گیا تھا جس میں رہائش، ڈیٹا سینٹرز اور انڈسٹریل پارکس کے لیے مخصوص علاقے دکھائے گئے۔ سلائیڈز میں بحیرہ روم کے ساحل کی ایک تصویر بھی شامل تھی جس میں دبئی یا سنگاپور کی طرح چمکتے ہوئے بلند و بالا ٹاورز دکھائےگئے۔
کشنر کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں واشنگٹن میں ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی جہاں ہم نجی شعبے کی جانب سے کیے جانے والے بہت سے عطیات کا اعلان کریں گے۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے ان منصوبوں میں اہم مسائل کا ذکر نہیں کیا گیا۔ جیسا کہ جائیداد کے حقوق یا ان فلسطینیوں کے لیے معاوضہ جنہوں نے جنگ کے دوران اپنےگھر، کاروبار اور روزگار کھو دیے۔ منصوبے میں اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا گیا کہ تعمیر نو کے دوران بے گھر فلسطینی کہاں رہیں گے۔



