حکومت کا مفت سفری سہولت کو پیٹرول کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اس سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مخصوص معاشی حالات میں مفت سفر کی سہولت ختم بھی کی جا سکتی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300 روپے فی لیٹر تک پہنچتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور سمیت صوبے بھر میں مفت سفری سہولت کے دائرہ کار میں توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ بعض پالیسی آپشنز میں اس سہولت کے مکمل خاتمے کی بات بھی شامل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7 کروڑ سے زائد مسافر اس مفت سفری سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
یہ سہولت پہلے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس اور سپیڈو بس سروس سمیت مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سسٹمز پر کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔



