بدین: ذوالفقار راہمون کے اغوا کیخلاف ورثاء اور مقامی شہریوں کا پریس کلب کے سامنے شدید احتجاج

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ کام . پی کے)کڑیو گھنور کے رہائشی ذوالفقار راہمون کو 16 دسمبر کو گولاڑچی روڈ پر ایک وین میں پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی جانب سے اغوا کیے جانے کے واقعے کے خلاف ان کے ورثاء اور علاقہ مکینوں نے بدین پریس کلب کے سامنے شدید احتجاج کیا سکندر راہمون، اکبر راہمون، سومار راہمون، اسحاق راہمون اور دیگر کی قیادت میں مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ذوالفقار راہمون کی بازیابی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے مطالبات درج تھے مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار راہمون کو بغیر کسی وارنٹ اور مقدمے کے اغوا کر کے لاپتہ کیا گیا ہے، جس کے باعث ان کے گھر میں خوف اور بے چینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس موقع پر رہنماؤں نے بتایا کہ 16 دسمبر کو ذوالفقار راہمون کڑیو گھنور سے گولاڑچی روڈ کے راستے جا رہے تھے کہ اچانک ایک گاڑی آ کر رکی، جس سے پولیس اور سادہ لباس اہلکار اترے اور زبردستی انہیں وین میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے انہو نے کہا کہ کئی دن گزر جانے کے باوجود نہ تو ذوالفقار راہمون کا کوئی سراغ ملا ہے اور نہ ہی پولیس کوئی تسلی بخش وضاحت دے رہی ہے۔ ورثاء کا کہنا تھا کہ اگر ذوالفقار راہمون پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن اس طرح غیرقانونی طور پر اغوا کر کے لاپتہ کرنا انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے انہونے سندھ حکومت، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا کہ ذوالفقار راہمون کو فوری طور پر رہا کر کے ورثاء کے حوالے کیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر جلد ذوالفقار راہمون کو آزاد نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی

مزید خبریں

Back to top button