سندھ اسمبلی کے باہر ہنگامہ آرائی: جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنے اور ہنگامہ آرائی کے معاملے پر آرام باغ تھانے میں سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مقدمہ 34 نامزد ملزمان اور 325 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، جس میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، سڑک بلاک کرنے، کارِ سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور انسدادِ دہشت گردی سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق احتجاجی دھرنے کے دوران حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب مظاہرین مشتعل ہو گئے، جس کے بعد پولیس ایکشن میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران متعدد پولیس افسران و اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
مقدمے کے متن کے مطابق جماعت اسلامی کی سینئر قیادت صفیان دیلا، عثمان شریف، فیضان، جواد شعیب اور دیگر نامعلوم رہنما دھرنے اور احتجاج کی سرپرستی کر رہے تھے، جبکہ اشتعال انگیز تقاریر اور نعروں کے ذریعے مظاہرین کو مشتعل کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق احتجاج میں شامل 300 سے 325 افراد ڈنڈوں، لاٹھیوں اور اسلحے سے مسلح تھے، جو اچانک پرتشدد ہو گئے اور پولیس پر حملہ کر دیا۔ اس دوران انسپکٹر راجہ مسعود، ایس ایچ او پریڈی ایوب میرانی، ایس ایچ او شاہ فیصل خان اور کانسٹیبل زوہیب زخمی ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پہلے میگا فون کے ذریعے وارننگز دی گئیں، تاہم حالات قابو میں نہ آنے پر اینٹی رائٹ فورس اور گیس شیلنگ کا استعمال کیا گیا۔
ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس نے موقع سے 30 بور پستول کے 5 چلیدہ خول، نائن ایم ایم کے 5 خول، 15 ڈنڈے، مختلف سائز کے 35 پتھر اور 79 گیس شیل کے خول تحویل میں لے لیے۔ اس کے علاوہ پولیس موبائل کے شیشے ٹوٹنے سے سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
پولیس کے مطابق دیگر ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔



