بدین میں فوتی کوٹہ کے لیے احتجاج، کمیٹی نے سندھ حکومت سے نوکریوں کی فراہمی کا مطالبہ کر دیا

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)آل سندھ فوتی کوٹہ ایکشن کمیٹی بدین کی جانب سے ایوانِ صحافت بدین کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر زوار گلشاد عمرانی، منصور کوریجو، اویس میمن، اقرار علی انصاری، رضوان میرانی، رسول بخش راجو، فدا شاہ، رمیش کولہی اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے 11 دسمبر 2025 کے نوٹیفکیشن میں فوتی کوٹہ صرف عدالت کے ذریعے کیس جیتنے والوں تک محدود کر دینا ناانصافی ہے، جس سے فوتی خاندانوں کے ساتھ بے وفائی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں فوتی کوٹہ کا رول 11-A سندھ اسمبلی سے 28 مارچ 1974 کو منظور کیا گیا تھا جس میں آج تک فوتی کوٹہ کے قانون میں یہ شرط شامل نہیں کہ فوتی کوٹہ کی نوکری سندھ ہائی کورٹ کے ذریعے ریگولیٹ ہوگی مقررین نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے کوٹہ پر عملدرآمد نہ کرنا افسوسناک عمل ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری سندھ سے مطالبہ کیا کہ فوتی کوٹہ کے تحت فوت ہونے والے ملازمین کی اولاد کو نوکریاں دے کر ان کی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔



