سکھر:مبینہ پولیس مقابلے میں 2افراد ہلاک،ورثہ کا لاشیں پریس کلب کے سامنے رکھ کراحتجاجی مظاہرہ،اعلیٰ حکام سے انکوائری کا مطالبہ

سکھر (جانوڈاٹ پی کے)سکھر اور خیرپور کے علاقوں گاڑی موری اور نیو سبزی منڈی کے رہائشیوں نے دبر تھانہ پولیس پر جعلی پولیس مقابلے کا الزام عائد کرتے ہوئے سکھر پریس کلب کے سامنے لاشیں رکھ کر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس نے مبینہ طور پر دو بے گناہ شہریوں کو جعلی مقابلہ ظاہر کرکے قتل کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مقتولین میں شعیب احمد کھوسو (پیشہ مکینک، رہائشی نیو سبزی منڈی، سن سوسائٹی، نادرا آفس کے پیچھے) اور احمد علی گھنگرو (رہائشی گاڑی موری، خیرپور) شامل ہیں۔ مظاہرین کے مطابق شعیب احمد کھوسو جمعہ کی شب ساڑھے نو بجے کے قریب گھر سے نکلا تھا، جس کے بعد وہ واپس نہیں آیا۔ صبح اطلاع ملی کہ دبر تھانہ کی حدود میں پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں دونوں افراد مارے گئے۔ورثا اور مظاہرین کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق پولیس کی جانب سے متضاد بیانات دیے جا رہے ہیں۔ کبھی کہا گیا کہ موبائل ٹاور سے بیٹریاں اتارنے کے دوران مقابلہ ہوا، کبھی گاؤں والوں سے جھگڑے کا مؤقف اختیار کیا گیا، جبکہ بعض اوقات پولیس مقابلے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعہ درست ہے تو اس کی واضح اور ایک ہی مؤقف کے ساتھ قانونی کارروائی کیوں سامنے نہیں لائی جا رہی۔مظاہرین نے کہا کہ شعیب احمد کھوسو ایک غریب مکینک تھا، جس کا چار دن کا شیر خوار بچہ ہے، جبکہ مقتول کی والدہ بھی صدمے کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جرم تھا تو قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا جاتا، نہ کہ ماورائے عدالت قتل کیا جاتا۔احتجاج میں ہدایت اللہ کھوسو (مقتول شعیب احمد کھوسو کے چچا)، محمد ابراہیم گھنگرو ایڈوکیٹ، عبید اللہ گھنگرو، احمد علی گھنگرو، عتیق الرحمن گھنگرو سمیت دیگر افراد شریک تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ کھلا جعلی پولیس مقابلہ ہے جس کی آزاد اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدار عدالتی انکوائری کروا کر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔



