میرپورخاص تعلیمی بورڈکی جانب سے ہزاروں افغان شہریوں کو میٹرک کے جعلی سرٹیفکیٹ جاری کیےجانےکا انکشاف

میرپورخاص (جانوڈاٹ پی کے)میرپورخاص تعلیمی بورڈ کی جانب سے ہزاروں افغان شہریوں کو میٹرک کے جعلی سرٹیفکیٹ جاری کیے جانےکا انکشاف ہوا ہے۔
اے ایس پی قرۃ العین نے میڈیا سےگفتگو میں بتایا کہ افغان شہریوں نے جعلی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر ڈومیسائل اورشناختی کارڈ بنوائے، سرٹیفکیٹ بنانےکے لیے50 ہزار سے 5 لاکھ فی کس وصول کیےگئے۔
اے ایس پی کے مطابق کرپشن کیس میں میرپورخاص تعلیمی بورڈ کے سیکرٹ برانچ کے انچارج سمیت 2 افراد گرفتار ہیں۔ اینٹی کرپشن نے بھی بورڈکا ریکارڈ قبضے میں لےکر تفتیش شروع کر رکھی ہے۔
پولیس نے تعلیمی بورڈ اور سیکرٹ برانچ کے انچارج اعظم خان کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کردیا۔
ملزم اعظم خان نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ نمبر بڑھانے کے لیے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے وصول کرتے تھے، فیل کو پاس کرنے کے 50 ہزار روپے لیے جاتےتھے، جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کے لیے 5 لاکھ روپے لیتے تھے۔
ملزم نے بتایا کہ 2 سرکاری اور 2 نجی اسکول اس معاملے میں ملوث تھے، یہ اسکول پکے سرٹیفکیٹ کے لیے جعلی تصدیق نامہ جاری کرتے تھے،کنٹرولر بورڈ انور علیم اس سارے معاملے کا مرکزی کردار تھے، پیسوں کے لین دین کا سارا حساب کنٹرولر امتحانات کے پاس تھا۔



