پنجاب بھر میں وارداتوں کا ماسٹر پلان سامنے آ گیا،ڈی آئی جی فیصل کامران کا انکشاف

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)پنجاب کے6شہروں میں وارداتیں اور افغانستان میں بیٹھ کر عیاشیاں کرنے والا زاژے خان کیسے جہنم واصل ہوا ؟ ڈی آئی جی فیصل کامران نے سب بتا دیا
چند روز قبل لاہورمیں ایک گھر میں سحری کے وقت19کروڑ روپے کے ڈکیتی کے کیس کو لاہور پولیس نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا 5ٹیمیں فوری تشکیل دی گئیں،جدید ٹیکنالوجی کو بہترین طریقے سے استعمال کیا گیا ، پورے لاہور میں درجنوں ناکے لگائے گئے ،واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کو ٹریس کیا گیا ، رنگ روڈ پر جب ایک ناکے پر پولیس نے مشکوک کار کو روکا تو اس میں سوار افراد نے فائرنگ کردی،جوابی فائرنگ میں گاڑی چلانے والا نشانہ بن گیا جب کے دیگر ساتھی بھاگ نکلے ، ہلاک ہونے والے ملزم کی شناخت زاژے خان کے نام سے ہوئی جسکے پاس افغان پاسپورٹ بھی تھا۔
تحقیقاتی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ زاژے خان ایک منظم گروہ کا سرغنہ تھا،یہ گروہ راولپنڈی فیصل آباد لاہور سرگودھااور میانوالی میں وارداتیں کرتا رہا،لاہور میں جس گھر میں سحری کے وقت19کروڑ کی ڈکیتی ہوئی اس گھر کے سربراہ نے ملزم کی لا۔ش دیکھتے ہی چیخ کر کہا یہی ہے وہ۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے دوبارہ پوچھا اگر ذرا بھی شک ہے تو بتائیں ، مگر شہری نے 100 فیصد یقین کے ساتھ کہا کہ یہی انکا لیڈر تھا۔راولپنڈی پولیس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ زاژے خان افغان ساتھیوں کے ساتھ یہاں وارداتیں کرتا، ہر سال رمضان کے دنوں میں اور سحری کا وقت ان کا فیورٹ ٹائم ہوتا تھا جبکہ لوٹ کی رقم یہ ہنڈی کے ذریعے افغانستان بھجواتے اور پھر چمن کے راستے افغانستان فرار ہو جاتے جہاں یہ کئی ماہ عیاشی سے رہتے۔



