دادو:سندھ میں انصاف ناممکن بنا دیا گیا ، حوصلہ نہیں ہاروں گی، سپریم کورٹ تک جاؤں گی، ام رباب

دادو(عابد ببر،جانو ڈاٹ پی کے دادو) ام رباب چانڈیو نے عدالتی فیصلے کے بعد ویڈیو بیان جاری کر دیا ہے۔
ام رباب چانڈیو کا کہنا ہے کہ وہ خود وکیل ہیں اور عدالتوں کا احترام کرنا جانتی ہیں، انہوں نے 9 سال تک پُرامن رہ کر انصاف کے لیے جدوجہد کی اور مسلسل عدالتوں کے چکر کاٹے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیشن جج دادو کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریمارکس دینے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی گئی، جبکہ اصل مسئلے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج نے دیا جس میں ان کے خاندان کے خون کو نظر انداز کیا گیا۔
ام رباب چانڈیو نے کہا کہ دادو اور قمبر میں دفعہ 144 نافذ تھی، مگر یہ صرف انہیں روکنے کے لیے استعمال کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی سیکیورٹی اور متعدد چیک پوسٹس کے باوجود مسلح افراد کیسے پہنچے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فیصلے پر دستخط ہوتے ہی فائرنگ اور اسلحے کی نمائش شروع ہو گئی، چند ہی منٹوں میں مسلح افراد کی موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے، جن کے جواب ریاست اور متعلقہ اداروں کو دینے ہوں گے۔
ام رباب چانڈیو نے الزام لگایا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کی گئی اور سرکاری مشینری کو بااثر افراد کے تحفظ کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ مخالفین کو ڈرانے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس جدوجہد میں حوصلہ نہیں ہاریں گی اور سپریم کورٹ تک جائیں گی۔ ان کے مطابق سندھ میں انصاف مشکل نہیں بلکہ ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
ام رباب چانڈیو کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہر پیشی پر عدالتوں کا احترام کرتے ہوئے حاضری دی مگر انہیں انصاف نہیں ملا، اب وہ اللہ کی ذات اور اپنی جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں۔



