ایران کے خاموش شکاری ، امریکہ پر پڑ گئے بھاری،ایک کے بعد ایک طیارہ شکار

​تہران/واشنگٹن/حیفہ(جانوڈاٹ پی کے)عسکری دنیا میں 20 مارچ کی صبح ایک ایسا زلزلہ لے کر طلوع ہوئی ہے جس نے پینٹاگون کے ناقابلِ شکست ہونے کے دعووں کو ملیامیٹ کر دیا ہے کیونکہ ایران نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دوسرا امریکی اسٹیلتھ طیارہ ایف 35 مار گرانے کا سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے جس کی تصدیق اب سی این این جیسے بڑے امریکی نشریاتی ادارے بھی کر رہے ہیں۔ ایران نے اس بار امریکہ کے انویزیبل طیاروں کو شکار کرنے کے لیے ایک ایسا فضائی جال بچھایا جس میں اسٹیلتھ ٹیکنالوجی نہ صرف وزیبل ہو گئی بلکہ بری طرح پھنس کر رہ گئی اور اس کامیابی کا سہرا ایران کے مقامی طور پر تیار کردہ نصراللہ سسٹم اور چین کے جدید وائی ایل سی ایٹ بی ریڈار کے سر جاتا ہے جو ایک خاموش شکاری کی طرح کام کرتا ہے اور طیارے کی لہروں کے بجائے اس کے انجن کی حرارت اور تھرمل سگنلز کو ٹریک کرتا ہے جس کی وجہ سے پائلٹ کو اس وقت تک پتا نہیں چلتا جب تک میزائل اس کے سر پر نہ پہنچ جائے۔ اسرائیل کے خلاف اپنی جوابی کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے ایران نے شمالی شہر حیفہ میں واقع اسرائیل کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر یکے بعد دیگرے چار بڑے میزائل داغے ہیں جس سے پورے شہر کی بجلی معطل ہو گئی اور ریفائنری میں لگنے والی آگ کے شعلے دور دور تک دیکھے گئے جبکہ اسرائیلی دفاعی نظام آئرن ڈوم ایران کے ہائپر سونک میزائلوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آیا اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں ہونے والے ان حملوں میں سو سے زائد اسرائیلی ہلاک اور ڈھائی ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ ادھر خلیجی ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں کویت کی مینا الاحمدی ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد اسے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنا پورا مواصلاتی نظام زیرِ زمین آپٹیکل فائبر پر منتقل کر دیا ہے جسے امریکی الیکٹرانک وارفیئر طیارے انٹرسیپٹ نہیں کر پا رہے اور اگر امریکہ نے اب زمینی فوج اتارنے کی غلطی کی تو ایران اس کے لیے دوسرا ویتنام ثابت ہوگا۔

امریکی اسٹیلتھ طیاروں کی تباہی اور ایران کے خفیہ نصراللہ سسٹم کی مکمل سنسنی خیز تفصیلات جاننے کے لیے معظم فخر کا یہ وی لاگ اس لنک پر ملاحظہ کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button