امریکا کے دن گنے گئے،یورپ چین سے ہاتھ ملانے کو بے قرار

نہال معظم:
برسلز کے ایوانوں سے لے کر پیرس اور برلن کی گلیوں تک، ایک ایسی خاموش بغاوت جنم لے رہی ہے جس نے دہائیوں پرانے ‘ٹرانس اٹلانٹک’ اتحاد کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ جب ہم یہ سنتے ہیں کہ ہر پانچ میں سے ایک یورپی اب امریکہ کو اپنے لیے ایک سٹریٹجک ‘خطرہ’ تصور کرتا ہے، تو یہ محض ایک شماریاتی ڈیٹا نہیں بلکہ اس عالمی زلزلے کی دستک ہے جو مغرب کے داخلی ڈھانچے میں آ چکا ہے۔ وہ یورپ، جو کبھی واشنگٹن کی ہر پکار پر لبیک کہتا تھا، اب اپنی بقا اور معاشی مفادات کے لیے بیجنگ کی طرف دیکھ رہا ہے، اور یہی وہ موڑ ہے جہاں دنیا کا سیاسی نقشہ ایک بار پھر ترتیب پا رہا ہے۔ امریکہ کی ‘سب سے پہلے امریکہ’ والی پالیسیوں اور تجارتی جنگوں نے یورپی قیادت کو یہ باور کرا دیا ہے کہ سمندر پار بیٹھا اتحادی اب اس کا محافظ کم اور ایک بے اعتبار معاشی رقیب زیادہ بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں یورپ اب چین کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ اور وسیع تجارتی منڈیوں کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
اس عالمی تبدیلی کی لہریں جب بحیرہ عرب کے ساحلوں اور پاکستان کے میدانوں سے ٹکراتی ہیں، تو ایک نئی تزویراتی کھڑکی کھلتی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان، جو دہائیوں سے واشنگٹن اور بیجنگ کی ‘کولڈ وار’ میں سینڈوچ بنا رہا ہے، اب ایک ایسی پوزیشن میں آ رہا ہے جہاں اسے ‘کسی ایک کا انتخاب’ کرنے کے مہلک دباؤ سے نجات مل سکتی ہے۔ اگر یورپ خود چین کے ساتھ معاشی پینگیں بڑھاتا ہے، تو پاکستان پر مغربی دنیا کی جانب سے سی پیک (CPEC) اور چینی سرمایہ کاری پر ہونے والی تنقید کا زور ٹوٹ جائے گا، جس سے اسلام آباد کو بیجنگ کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا جواز ملے گا۔ مزید برآں، یورپی یونین کی جانب سے امریکہ سے دوری اور ایک آزاد خارجہ پالیسی کی طرف پیش قدمی پاکستان کے لیے یورپی منڈیوں میں نئے مواقع پیدا کرے گی، کیونکہ اب پاکستان کو اپنی برآمدات کے لیے صرف ایک بلاک کے سیاسی اشاروں کا محتاج نہیں رہنا پڑے گا۔
تاہم، یہ بدلتی ہوئی صورتحال پاکستان کے لیے جتنی بڑی رعایت ہے، اتنی ہی بڑی آزمائش بھی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں یورپ جیسا بڑا کھلاڑی بھی امریکہ کے سائے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، پاکستان کو اپنی ‘جیو اکنامک’ اہمیت کو نئے سرے سے ثابت کرنا ہوگا۔ اگر پاکستان چین اور یورپ کے درمیان ایک محفوظ تجارتی گزرگاہ بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو وہ واشنگٹن کے ممکنہ معاشی انتقام سے بچتے ہوئے ایک کثیر قطبی دنیا (Multipolar World) میں اپنا نمایاں مقام بنا سکتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ یورپ کا بدلتا ہوا مزاج اس بات کی گواہی ہے کہ اب طاقت کا مرکز واشنگٹن سے سرک کر مشرق کی طرف آ رہا ہے، اور پاکستان کے لیے یہ وقت اپنی خارجہ پالیسی کی کشتی کو اس نئی لہر کے مطابق ڈھالنے کا ہے تاکہ وہ اس عالمی تبدیلی میں محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک کلیدی شراکت دار بن کر ابھرے۔



