ایپسٹین فائلز میں ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں سمیت خود صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول ملانیا کے نام بھی شامل

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)بدنامِ زمانی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق منظر عام پر آنے والی دستاویزات میں ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں اور ٹرمپ کی انتخابی مہم کو عطیہ دینے والے اہم لوگوں کے ساتھ ساتھ خود صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول ملانیا ٹرمپ کے نام بھی شامل ہیں۔
اب تک منظر عام پر آنے والی دستاویزات میں صدر ٹرمپ سے وابستہ کم از کم 11 افراد کے نام بار بار آئے ہیں، ان لوگوں کے خلاف کسی جرم کے ٹھوس ثبوت موجود نہیں لیکن بعض افراد پر چونکا دینے والے رویّوں کے الزامات ہیں جبکہ کچھ نے ایسپٹین سے اپنے تعلقات کے بارے میں جھوٹ بولا ہے ۔
غیر سنسر شدہ ایپسٹین فائلز تک رسائی رکھنے والے رکنِ کانگریس جیمی ریسکن کے مطابق ان فائلز میں ٹرمپ کے 10 لاکھ سے زائد حوالہ جات سامنے آئے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق سنسر شدہ 5300 سے زیادہ فائلوں میں ٹرمپ، ان کی اہلیہ اور فلوریڈا میں واقع ان کے مارالاگو کلب کے 38 ہزار سے زائد حوالہ جات موجود ہیں، حتی کہ ایف بی آئی کی ایک ٹپ شیٹ میں صدر ٹرمپ کا نام جنسی زیادتی کے کئی واقعات میں آیا ہے۔
ایپسٹین فائلز کے مطابق امریکی کامرس سیکرٹری ہاورڈ لٹنک اور ایپسٹین 2014 تک کاروباری شراکت دار رہے، ان کا تعلق صرف کاروبار تک محدود نہیں تھا بلکہ خاندانی روابط بھی تھے۔
ٹرمپ کے سینٹرز فار میڈیکیئر اینڈ میڈیکیڈ سروسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مہمت اوز اور اُن کی اہلیہ نے 2016 میں اپنے گھر پر ویلنٹائنز تقریب میں ایپسٹین کو مدعو کیا اور دعوت سے پہلے اوز نے ایپسٹین کو خفیہ کوڈ والی ای میل بھی بھیجی۔
اسی طرح ٹرمپ کے ترکی میں امریکی سفیر اور شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام باراک کے حوالے ایپسٹین فائلز میں جگہ جگہ ملتے ہیں اور ان دستاویزات میں ان کا نام 500 سے زائد مرتبہ آیا ہے۔
امریکی بحریہ کے وزیر جان فیلن کا نام ایک فلائٹ لاگ میں آیا جس کے مطابق ایپسٹین پر فردِ جرم عائد ہونے سے چند ماہ پہلے اُنہوں نے ایپسٹین کے نجی طیارے پر سفر کیا۔
اسی طرح ٹرمپ کے وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کا نام ایپسٹین کی ساتھی مجرم گائسلین میکسویل نے خود لیا ہے۔
ٹرمپ کے نامزد کردہ اگلے ممکنہ فیڈرل ریزرو چیئرمین کیون وارش کا نام ایپسٹین فائلز میں 2010 کی کرسمس پارٹی کے مہمانوں کی فہرست میں شامل ہے۔
عالمی شراکت داری کے لیے ٹرمپ کے خصوصی نمائندے زامپولی 2010 تک ایپسٹین کو تقاریب میں مدعو کرتے رہے۔
گزشتہ سال صدر سے اختلافات کے دوران ارب پتی ایلون مسک نے ٹویٹ کیا تھا کہ ایپسٹین فائلز کے منظرِ عام پر نہ لانے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ اُن میں شامل ہیں تاہم ایلون مسک کا اپنا نام بھی ایپسٹِن فائلزمیں ایک ہزار سے زائد مرتبہ آیا ہے۔
ارب پتی پیٹر تھیل کبھی ٹرمپ اور سیلیکون ویلی کے سربراہان کے درمیان ملاقاتیں کرانے پر شیڈو صدر کہلاتے تھے۔ ایپسٹین فائلز میں اُن کی 2016 کے صدارتی انتخاب کی صورتحال پر گفتگو شامل تھی۔
یہی نہیں بلکہ 2002 میں میلانیا نامی ایک خاتون نے ایپسٹین کی ساتھی مجرم گائسلین میکسویل کو ایک گرمجوش ای میل لکھی۔ متعدد رپورٹرز اور میڈیا آوٹ لیٹس نے اُس میلانیا کی شناخت خاتونِ اوّل کے طور پر کی، جو اُس وقت میلانیا کناؤس کے نام سے جانی جاتی تھیں۔
ملانیا اور گائسلین میکسویل دونوں، ٹرمپ اور ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارتی تھیں جس کے تصویری شواہد فائلز میں موجود ہیں۔



