تھر کول بلاک ون میں بحران شدت اختیار کرگیا:400 ملازمین برطرف،ہڑتال اور احتجاج چوتھے روز بھی جاری

مٹھی (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھر کول بلاک ون انتظامیہ کی انتقامی کارروائیاں، 400 مقامی ملازمین برطرف ہونے کے اطلاعات، کام بند ہڑتال جاری، احتجاج، عدالت جانے کا اعلان، 5000 مقامی ملازمین ہٹ لسٹ پر،

تفصیلات کے مطابق تھر کول بلاک ون کی سائینو کمپنی کے ماتحت کام کرنے والی ہنڈا کمپنی کی انتظامیہ نے مقامی ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ تنخواہوں میں کٹوتی، الاؤنسز میں فراڈ، غیر ضروری جرمانے عائد کرنے سمیت کئی مسائل میں گھرے ڈمپر ڈرائیوروں اور دیگر ملازمین نے چوتھے روز بھی کام بند ہڑتال جاری رکھی۔ جبکہ 50 ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا۔

جبکہ برطرف ملازمین نے اسلام کوٹ پریس کلب پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جام مہران پوٹو کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں انہوں نے الزام لگایا کہ ہنڈا کمپنی کے ایچ آر منیجر شہباز رانگڑ نے مقامی ملازمین پر ظلم کیا ہے۔

مظاہرین کے مطابق کمپنی نے تقریباً 400 مقامی کارکنوں کو برطرف اور غیر مقامی کارکنوں کو ملازمت پر رکھا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندے ان کی آواز سننے کو تیار نہیں۔

مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہماری بحالی کے بعد ہمارے جائز مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔

دوسری جانب بلاول ہاؤس کے ترجمان ایم پی اے سریندر ولاسائی نے تھر کول بلاک I میں کام کرنے والے مقامی مزدوروں کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ توانائی سندھ تھر کول بلاک I کے چار درجن ڈمپر ڈرائیوروں کی برطرفی کا نوٹس لے جو اپنی تنخواہوں میں کٹوتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں علاقے کے ایم پی اے کی حیثیت سے متعلقہ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ ان کے حقیقی مطالبات تسلیم کرکے انہیں بحال کیا جائے۔

دوسری جانب تھر کے چاہنے والے انجینئر ولی محمد راھمون نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ تھر کول میں کام کرنے والے مقامی مزدوروں کی بے دخلی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5000 مقامی کارکنوں کو ہٹ لسٹ پر ڈال دیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button