اے آئی ٹیکنالوجی بہت جلد زمین پر موجود ہر فرد سے زیادہ ذہین ہو جائے گی، ایلون مسک کی پیشگوئی

ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس (ٹوئٹر) جیسی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے پیشگوئی کی ہے کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی بہت جلد زمین پر موجود کسی بھی فرد سے زیادہ ذہین ہو جائے گی۔
ایک انٹرویو کے دوران ایلون مسک نے پیشگوئی کرتے ہوئے بتایا کہ کب تک اے آئی ٹیکنالوجی ذہانت میں انسانوں کو پیچھے چھوڑ دے گی۔
انٹرویو کے دوران انہیں ایکویڈیو دکھائی گئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 3 برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی ذہانت میں انسانوں کے پیچھے چھوڑ دے گی اور ایلون مسک نے جواب میں کہا کہ ان کے خیال میں واقعی 3 سال میں ایسا ممکن ہو جائے گا۔
اس سے قبل ایلون مسک نے پیشگوئی تھی کہ آرٹی فیشل جنرل انٹیلی جنس (اے جی آئی) 2026 میں سامنے آجائے گی۔
اسی طرح ماضی میں وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ 2029 سے 2030 تک اے آئی ٹیکنالوجی تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی۔
اپریل 2024 کے شروع میں ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران ایلون مسک نے کہا کہ 2030 تک اے آئی ٹیکنالوجی لوگوں سے زیادہ ذہین ہوگی اور اسی لیے ہمیں ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم اے آئی کو ہمیشہ سچ بولنے اور پرتجسس رہنے کی تربیت دیں۔
2023 میں اپنی اے آئی کمپنی ایکس اے آئی کے قیام کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ 5 سے 6 برسوں میں انسانوں سے زیادہ ذہین اے آئی ماڈلز تیار ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں اے آئی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کو روکنے کا موقع ملے تو وہ ایسا کرنے پسند کریں گے۔
اس سے قبل نومبر 2023 میں اے آئی سیفٹی کانفرنس سے خطاب کے دوران ایلون مسک نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار انسانوں کا سامنا خود سے زیادہ ذہین حریف سے ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہم دیگر مخلوقات سے زیادہ طاقتور یا تیزرفتار نہیں، مگر ہم ان سے زیادہ ذہین ہیں، تاہم اب انسانی تاریخ میں پہلی بار ہمیں خود سے زیادہ ذہین چیز کا سامنا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے نہیں معلوم کہ ہم اس طرح کی چیز پر کنٹرول کر سکتے ہیں یا نہیں، مگر میرے خیال میں ہمیں اس کی راہ کا تعین کرنا چاہیے جو انسانیت کے لیے مفید ہوگا’۔



