پنجاب بلدیاتی انتخابات: الیکشن کمیشن کی کمیٹی قائم، 10 فروری تک معاملات حل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)الیکشن کمیشن نے پنجاب بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر الیکشن کمیشن کی کمیٹی قائم کرتے ہوئے 10 فروری تک پنجاب حکومت کی کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی ہدایت کر دی۔
الیکشن کمیشن میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات انعقاد میں تاخیر کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ الیکشن کمیشن اسپیشل سیکرٹری ظفر اقبال نے کہا کہ پنجاب حکومت نے دستاویزات فراہمی کی جو ٹائم لائن دی تھی اسے پورا نہیں کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کے پاس وسیع اختیارات ہیں۔ الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے۔ پنجاب حکومت ہمارے ساتھ بیٹھے،ہمارے تحفظات ختم کرے۔
حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ صوبے کمیشن کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے۔ پنجاب کی 3 مرتبہ حلقہ بندی کرائی ، بہت عوام کا پیسہ خرچ ہوا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں کیا مشترک ہے۔ ممبر کمیشن نے جواب دیا کہ دونوں میں ایک ہی حکومت ہے۔ ممبرکمیشن نے کہا کہ اگر حکومت نہ الیکشن کرائے تو نااہل ہو جائے گی؟۔
حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنجیدہ نتائج ہوں گے لیکن نااہلی نہیں ہو گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پھر کیا سخت سزا ہوئی۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ ایک سیکنڈ بھی سزا ہو تو نااہل ہو جائیں گے ۔ حکام نے کہا کہ ابھی وہ والی اسٹیج نہیں آئی،۔
سیکرٹری مقامی حکومت پنجاب نے کہا کہ ٹائم لائن سے تاخیر ڈی مارکیشن رولز کی وجہ سے ہوئی۔ جو قانون سازی ہوتی ہے کابینہ نے منظور کرنی ہوتی ہے، کابینہ میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ اب ڈی مارکیشن رولز نوٹی فائی ہو چکے ہیں، ڈی مارکیشن پر اپیل آج تک مکمل ہوں گی۔ جیسے ڈی مارکیشن ہمارے پاس آ جائے گی ہم کابینہ کو منظوری کے لیے بھیج دیں گے، ڈی لمیٹیشن ،ڈی مارکیشن پر منحصر ہے،۔ جیسے ڈی مارکیشن ہوئی، ڈی لمیٹیشن کر دیں گے ۔
چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ ڈیڈ لائن میں سوا ماہ کی تاخیر ہے۔ پنجاب میں نیا سسٹم آ رہا ہے ۔
ممبر کمیشن نے کہا کہ 36، 37 اضلاع ہیں، ان کی ڈی مارکیشن ہونی ہے۔ پھر اس کے بعد وہ پھر کابینہ کے پاس آیئےگا پھر لیٹ ہو گا۔
چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ اب معاملہ سموتھ ہو گیا ہے، رولز میں وضاحت آگئی۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ کیا 4 ہفتے میں ہو جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ ہم تیار ہیں، چیف منسٹر کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بہت شرمندگی ہے کہ پنجاب میں 2021 سے لوکل حکومت نہیں۔ وفاقی ،صوبائی حکومت سے زیادہ لوکل حکومت اہم ہے۔ اگر مقامی حکومت ضروری نہیں تو پھر تو صوبائی حکومت کی بھی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم کمیٹی قائم کرتے ہیں جو ہفتہ دس دن میں کام مکمل کرلے۔ الیکشن کمیشن اسپیشل سیکرٹری کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کی کمیٹی لاہور آئے گی ۔ وہاں پنجاب حکومت کی قائم کمیٹی کے ساتھ مسلسل اجلاس کرکے معاملات حل کریں۔ معاملہ حل کرکے چیف سیکرٹری پنجاب الیکشن کمیشن کو مطلع کر دیں۔ 10 فروری کو دوبارہ سماعت ہو گی۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ فروری 20 تک مہلت کر دیں تاکہ کمیٹی اپنا کام مکمل کر لے۔
چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم سماعت 20 فروری تک ملتوی کرتے ہیں لیکن کمیٹی 10 تک کام مکمل کر لے۔ آپ چیف منسٹر کو اس مسئلہ کی سنجیدگی کے بارے میں آگاہ کریں۔ اگر الیکشن کمیشن مزید کوئی ایکشن لے تو بہت شرمندگی ہو گی۔ 20 فروری کو ضرورت پڑی تو ہم چیف منسٹر کو بلا لیں گے۔ کمیشن کو پھر لگا تو الیکشن کمیشن کو خود ٹیک اور کرکے الیکشن کرا دے گا۔ پھر ہم ڈی مارکیشن کے لیے ڈی سیز کو خود بلا لیں گا۔ ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم ڈی سیز کو بلا کر ہدایت کریں۔ اس کے نتائج ہوں گے۔ امید ہے 20 فروری تک معاملات حل ہو جائیں گے۔ ورنہ الیکشن کمیشن نے آپ کو روڈ میپ بتا دیا ہے۔ کیس کی سماعت 20 فروی تک ملتوی کر دی گئی۔



