ایران کا بڑا ایکشن،عالمی معیشت پر ٹائم بم لگا دیا

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)​مشرق وسطیٰ میں حالات ایک بار پھر دھماکہ خیز صورتحال اختیار کر گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی سینٹ کوم نے آبنائے ہرمز کی مکمل بحری ناکہ بندی کا آغاز کر دیا ہے، جس کے جواب میں ایران نے وہاں سے گزرنے والے تمام تیل بردار جہازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ایران نے بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ یمن کے حوثیوں نے بھی امریکہ کی اس ناکہ بندی کے ردعمل میں ‘باب المندب’ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔

​دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کی ایک کھڑکی اب بھی کھلی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے ایک طویل بیان میں اعتراف کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی تھی اور بیشتر نکات پر اتفاق ہو گیا تھا۔ ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس ایرانی قیادت کے طرز گفتگو سے کافی متاثر ہوئے ہیں اور ان کے درمیان ایک ‘آئس میلٹ’ (برف پگھلنے) کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ تاہم، ایران کے ایٹمی پروگرام پر ڈیڈ لاک اب بھی برقرار ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس اراکچی نے بھی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کامیابی کے بہت قریب تھے اور صرف تین نکات پر اختلاف باقی رہ گیا تھا۔

​پاکستان ایک بار پھر 21 اپریل سے قبل دونوں فریقین کو دوبارہ میز پر لانے کے لیے سرگرم ہو گیا ہے تاکہ جنگ بندی کے معاہدے میں توسیع کی جا سکے۔ چین اور روس کے اہم رہنما بھی آج ہنگامی طور پر پاکستان پہنچ رہے ہیں تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ کیا پاکستان 21 اپریل کی ڈیڈ لائن سے قبل اس بحران کو حل کرنے میں کامیاب ہو پائے گا؟ اس حوالے سے معظم فخر کا مکمل تجزیہ اور گراؤنڈ رپورٹس جاننے کے لیے یہ وی لاگ اس لنک پر دیکھیں

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button