ٹھٹھہ: پیپلز گدھا گاڑی مزدور ایسوسی ایشن کا ٹھیکیدار کے ظلم کیخلاف شدید احتجاج، روزگار  کی بحالی کا مطالبہ

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن جانو.پی کے )پیپلز گدھا گاڑی مزدور ایسوسی ایشن ٹھٹھہ کے پلیٹ فارم سے چھتوچنڈ شہر میں واہ کے پل پر ایسوسی ایشن کے صدر محمد رمضان گندرو و دیگر کی قیادت میں گدھا گاڑیاں کھڑی کرکے سخت احتجاج کیا گیا

 چھتوچنڈ شہر کے قریب کلری بیراج واہ کو پکا کرنے کے بہانے بااثر ٹھیکیدار کی جانب سے واہ کے کناروں پر برسوں سے گدھا گاڑیاں کھڑی کرکے روزگار کمانے والے محنت کشوں کے چھپروں، پانی کی ٹینکیوں، نلکوں، بیٹھک اور قیمتی درختوں کو کاٹ کر وہاں مٹی کے بڑے بڑے ڈھیر لگا دیے گئے ہیں۔ جس کے باعث گدھا گاڑی چلانے والے مزدور بے روزگار ہو کر فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

متاثرہ مزدوروں نے پیپلز گدھا گاڑی مزدور ایسوسی ایشن ٹھٹھہ کے پلیٹ فارم سے چھتوچنڈ شہر میں احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بیٹھک پر ڈالی گئی مٹی کو 300 فٹ دور منتقل کرکے انہیں دوبارہ چھپر، نلکے اور بیٹھنے کی جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ روزگار شروع کرکے اپنے بچوں کو بھوک اور بدحالی سے بچا سکیں۔

اس سلسلے میں متاثرہ گدھا گاڑی مزدوروں کی بڑی تعداد نے پیپلز گدھا گاڑی مزدور ایسوسی ایشن ٹھٹھہ کے پلیٹ فارم سے چھتوچنڈ شہر میں واہ کے پل پر ایسوسی ایشن کے صدر محمد رمضان گندرو، اکبر شیخ، پیر بخش، منور، دوست علی، عبدالرزاق شیخ اور دیگر کی قیادت میں گدھا گاڑیاں کھڑی کرکے سخت احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 30 برسوں سے کلری بیراج کے کنارے گدھا گاڑیوں کے لیے چھپر، پانی کی ٹینکیاں، درخت اور بیٹھنے کی جگہ قائم تھی، جسے حال ہی میں واہ کو پکا کرنے والے ٹھیکیدار ایاز چنہ نے مسمار کرکے وہاں مٹی کے بڑے ڈھیر لگا دیے، جس سے وہ بے روزگار ہوکر فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

محمد رمضان گندرو، اکبر شیخ اور دیگر نے مزید کہا کہ بااثر ٹھیکیدار نے وعدہ کیا تھا کہ واہ کو پکا کرنے کے بعد انہیں دوبارہ چھپر اور دیگر سہولیات بنا کر دے گا، مگر اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک طرف بااثر افراد کلری واہ کے کناروں پر قبضے کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف انہیں ان کا جائز حق بھی نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ڈی سی ٹھٹھہ، اے سی ٹھٹھہ اور منتخب نمائندوں کو بھی شکایات دی جا چکی ہیں مگر انہیں انصاف نہیں ملا، جس کے باعث وہ احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔

مظاہرین نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ شیرازی، صوبائی وزیر حاجی علی حسن زرداری، ڈی سی ٹھٹھہ، ایم این اے صادق علی میمن اور محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے گدھا گاڑیوں کی جگہ پر لگائی گئی مٹی کے ڈھیر 300 فٹ دور منتقل کیے جائیں، دوبارہ چھپر اور پانی کی ٹینکیاں فراہم کرکے بیٹھک قائم کی جائے اور کلری واہ کے کناروں پر بااثر افراد کے غیرقانونی قبضے ختم کرائے جائیں تاکہ محنت کش دوبارہ روزگار کرکے اپنے اہل خانہ کو بھوک اور بدحالی سے بچا سکیں، بصورت دیگر سخت احتجاج کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button