ڈاکٹرراول کیس میں پی ایچ آئی انتظامیہ کی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش

تھرپارکر (رپورٹ : میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) ڈاکٹر راول کیس میں پی پی ایچ آئی انتظامیہ کی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش، پیٹرول پمپ مالک کے خلاف مقدمہ درج، ایم پی اے سریندر ولاسائی نے حکام سے تفصیلات طلب کرلیں۔

تین روز قبل ضلع تھرپارکر کے تعلقہ اسلام کوٹ میں پی پی ایچ آئی میں تعینات ڈاکٹر راول میگھواڑ نے خود پر پیٹرول چھڑک کر خودکشی کرلی۔ انہیں تشویشناک حالت میں کراچی منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ واقعے کے بعد درج کی گئی ایف آئی آر میں ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش کرنے والوں میں شامل پیٹرول پمپ مالک قیمَت کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس نے مٹھی کی عدالت سے ضمانت حاصل کرلی۔ دوسری جانب مرحوم ڈاکٹر کی تدفین ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں کی گئی۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر راول میگھواڑ کو گزشتہ چند ماہ کے دوران 20 سے زائد بار مختلف مقامات پر تبادلہ کرکے ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ حال ہی میں انہیں ایک اور اچانک ٹرانسفر آرڈر جاری کیا گیا، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ میں تھے اور بالآخر انہوں نے انتہائی قدم اٹھایا۔واقعے کے بعد پیٹرول فراہم کرنے والے پمپ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ایم پی اے سریندر ولاسائی نے اسلام کوٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

ادھر بلاول ہاؤس کے ترجمان اور ایم پی اے سریندر ولاسائی نے پی پی ایچ آئی سندھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو خط لکھ کر اسلام کوٹ میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک افسوسناک واقعہ نہیں بلکہ ادارے کے اندرونی انتظامی ماحول اور ڈاکٹروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اگر بار بار اور اچانک تبادلوں کی اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ ادارے کی سنگین ناکامی ہوگی، جسے محض انتظامی معاملہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے پیٹرول پمپ مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے کو بھی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہو سکتا ہے، یعنی کیا ادارہ جاتی دباؤ نے ایک ڈاکٹر کو خودکشی جیسے انتہائی قدم پر مجبور کیا؟

خط میں ڈاکٹر عبدالکریم شیخ کے سابقہ واقعے کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں ابتدائی بیانات بعد میں غلط ثابت ہوئے اور عوامی دباؤ پر قتل کے شبے میں مقدمہ درج کرنا پڑا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جلد بازی کے بجائے شفاف تحقیقات کتنی ضروری ہیں۔

ایم پی اے نے مطالبہ کیا کہ پی پی ایچ آئی سے باہر نمائندگی کے ساتھ ایک آزاد اور اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے، جو ڈاکٹر میگھواڑ کی موت کے تمام اسباب کا تعین کرے، ان کے تبادلوں اور تعیناتی کا مکمل ریکارڈ سامنے لائے، اور ذمہ دار افسران کی نشاندہی کرے۔

مزید مطالبہ کیا گیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک مبینہ طور پر ہراسانی، دباؤ یا اختیارات کے غلط استعمال میں ملوث افسران کو معطل کیا جائے، جبکہ پیٹرول پمپ مالک کے خلاف درج ایف آئی آر کے حوالے سے بھی عوام کو وضاحت فراہم کی جائے۔ خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تھرپارکر جیسے پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے ایک آزاد شکایتی اور تحفظ کا نظام قائم کیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے کو سنجیدگی اور شفافیت سے نہ لیا گیا تو اسے ذمہ داران کو بچانے کی کوشش سمجھا جائے گا۔ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی عزت، تحفظ اور ذہنی سکون کو ہر صورت یقینی بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ محض ایک فائل بند کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس سے احتساب اور نظام میں بہتری آنی چاہیے، اور وہ حکام کے فوری اور عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button