امریکہ،چین تعلقات،ماضی میں پنگ پونگ،حال میں ڈنگ ڈونگ

تحریر:نہال معظم

سن1971کی بات ہے، جب جاپان کے شہر ناگویا میں عالمی ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ جاری تھی۔ فضا میں سرد جنگ کی تپش تھی اور امریکہ و چین کے تعلقات ایک ایسے بند گلی میں کھڑے تھے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ اسی دوران ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ انیس سالہ امریکی کھلاڑی گلین کووان اپنی ٹیم کی بس چھوٹ جانے کے باعث غلطی سے چینی ٹیم کی بس میں سوار ہو گئے۔ بس میں مکمل خاموشی چھا گئی کیونکہ چینی کھلاڑیوں کو امریکیوں سے بات کرنے کی سخت ممانعت تھی۔ لیکن اسی خاموشی کو چین کے مایہ ناز کھلاڑی ژوانگ زیڈونگ نے توڑا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر کووان سے ہاتھ ملایا اور انہیں ہانگ شان پہاڑیوں کی تصویر والا ایک ریشمی تحفہ پیش کیا۔ اس ایک مصافحے نے وہ برف پگھلا دی جو دو دہائیوں سے جمی ہوئی تھی۔ جب یہ خبر چینی صدر ماؤ زی تنگ تک پہنچی تو انہوں نے اسے ایک سنہری موقع جانا اور امریکی ٹیم کو چین کے دورے کی دعوت دے دی۔ یوں "پنگ پونگ ڈپلومیسی” کا آغاز ہوا جس نے صدر نکسن کے دورہ چین کی راہ ہموار کی اور دنیا نے دیکھا کہ ایک کھیل کی میز نے عالمی سیاست کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔

​لیکن آج جب ہم اپریل 2026 کی دہلیز پر کھڑے ہیں، تو وہ دوستانہ پنگ پونگ کی آوازیں کہیں گم ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ ایک زوردار "ڈنگ ڈونگ” یعنی خطرے کی گھنٹیوں نے لے لی ہے۔ ماضی کی وہ گیند جو کبھی دو ملکوں کو قریب لانے کا ذریعہ تھی، اب ایک ایسی عالمی بساط پر فٹ بال بن چکی ہے جہاں ہر ٹھوکر سے نئے تنازعات جنم لے رہے ہیں۔ ایران اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے واشنگٹن کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ چین اب محض ایک مینوفیکچرنگ حب نہیں رہا بلکہ وہ ایک ایسا عالمی کھلاڑی بن چکا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی شطرنج پر اپنی چالیں بہت مہارت سے چل رہا ہے۔ ایران کے ساتھ چین کا حالیہ تزویراتی تعاون اور تیل کی یوآن میں خریداری نے امریکی ڈالر کی اس بادشاہت کو چیلنج کر دیا ہے جس پر پوری مغربی معیشت کا دارومدار ہے۔ یہ صورتحال محض تجارتی نہیں بلکہ ایک گہرا جیو پولیٹیکل موڑ ہے جہاں چین اپنے توانائی کے تحفظ کے لیے ایران کو ایک ناگزیر شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔

​ادھر واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی واپسی نے اس تناؤ کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کی حالیہ دھمکی نے اس "ڈنگ ڈونگ” ڈپلومیسی کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر امریکہ آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں چینی بحری جہازوں کا راستہ روکنے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ صرف ایران پر دباؤ نہیں ہوگا بلکہ چین کی معیشت کی شہ رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف ہوگا۔ چین اس وقت اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ ایران سے پورا کر رہا ہے اور کسی بھی قسم کی بحری ناکہ بندی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا سکتی ہے، جس کا منفی اثر براہِ راست بیجنگ کی صنعتوں پر پڑے گا۔ یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ چین اب خاموش تماشائی بننے کے بجائے جوابی اقدامات کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ نایاب معدنیات کی سپلائی روک کر امریکی ٹیک انڈسٹری کو مفلوج کرنے کی طاقت رکھتا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجیکل جنگ میں مزید شدت آ جائے گی۔

​دلچسپ بات یہ ہے کہ 1971 میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا تھا، لیکن آج کا منظرنامہ بالکل مختلف ہے۔ آج چین خود ایک ایسا مرکز بن چکا ہے جس کے گرد ایران، روس اور کئی وسطی ایشیائی ممالک کا ایک نیا بلاک تشکیل پا رہا ہے۔ پنگ پونگ کے دور میں امریکہ چین کو روس کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا، لیکن آج "ڈنگ ڈونگ” کے اس دور میں چین اور روس مل کر امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیاں جہاں چین کو دباؤ میں لانے کے لیے ہیں، وہی وہ چین کو مجبور کر رہی ہیں کہ وہ مغرب پر اپنا انحصار کم سے کم کرے اور متبادل مالیاتی نظام وضع کرے۔ یہ بدلتی ہوئی صورتحال ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی بھی دوستی یا دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ جس طرح 55 سال پہلے ایک معمولی کھلاڑی کے بس میں غلط سوار ہونے سے دو بڑے دشمن قریب آگئے تھے، آج اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کے صحراؤں میں تیل کی پائپ لائنیں اور سمندروں میں گشت کرتے بحری بیڑے دو عالمی طاقتوں کو ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عالمی قیادت اس "ڈنگ ڈونگ” کو کسی نئے سمجھوتے میں بدل پائے گی یا پھر یہ خطرے کی گھنٹی کسی ایسے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی جس کی لپیٹ میں پوری دنیا آ جائے گی۔

مزید خبریں

Back to top button