ایران نےامریکاسےڈیجیٹل معاہدے کاکیوں کہا؟اہم تفصیلات سامنےآگئیں

تہران/واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کی شب انتہائی اہم تقریر کےدوران اعلان کیا کہ امریکا سے معاہدہ پر ڈیجیٹل اور ریموٹلی دستخط کیے جائیں گے۔
یہ انتہائی اہم سوال ہے کہ اپنی نوعیت کے اس اہم ترین تاریخی امن معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک اہم سفارتی ذریعے نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے وفود کے لیے جنیوا میں تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی تھی کیونکہ یہ دستخط دونوں ملکوں کے نمائندوں کو ذاتی حیثیت میں کرنا تھے۔
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ ایران کو تاحال امریکا اور اسرائیل پر اعتماد نہیں اور دو بنیادی چیزوں کی وجہ سے ایران میں پالیسی ساز ادارے آخری لمحات میں اس نتیجے پر پہنچے کہ ذاتی حیثیت کی بجائے معاملہ فی الحال ریموٹلی انجام دیا جائے۔
نام ظاہر نہ کرنھے کی شرط پر اس سفارتی ذرائع نے بتایا اگر یہ تقریب جنیوا کی بجائے پاکستان میں رکھی گئی ہوتی تو عین ممکن تھا کہ ایرانی وفد پاکستان آجاتا کیونکہ ایران کو جن دو باتوں پر تاحال تحفظات ہیں ان میں سے ایک بڑی حد تک دور ہوجاتا۔
اس ذریعے کے مطابق تہران سے جنیوا تک طویل فضائی سفر کے دوران ایرانی وفد کی سکیورٹی یقینی بنانے پرسنگین سوالیہ نشانات تھے۔
جے سی پی او اے معاہدے سے یکطرفہ دستبردار ہونے والے اور مذاکرات کےدوران ایران پر حملہ کرنیوالے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کسی صورت بھی اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں۔
ایران میں اعلیٰ سطح پریہ خدشات بھی تھے کہ کہیں وفد کے اس فضائی سفر کےدوران اسرائیل کی جانب سے سبُو تاژ کا کوئی واقعہ پیش نہ آجائے، وجہ یہ ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کرنیوالے اور حزب اللہ کی قیادت کو مسلسل نشانہ بنانے والے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے تہران کو کسی بھی حد تک جانے کی توقع ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل دستخط کی تجویز پیش کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکا کے جنگی جہاز تاحال موجود ہیں، ایران کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود یہ جہاز اگر واپس نہ گئے تو فٹبال ورلڈکپ کے فورا بعد جنگ کے بادل پھر گہرے ہوسکتےہیں، اس لیے ذاتی حیثیت میں جنیوا آکر امن معاہدے پر دستخط سے ایک درجہ کم قائم کیا جانا چاہیے۔اس سوال پر کہ یہ صورتحال تو پہلے سے موجود تھی تو پھر جنیوا میں معاہدے پر دستخط کیلئے آمادگی ظاہر کیوں کی گئی کیونکہ خود امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلان کرچکے تھے کہ وہ نائب صدر جے ڈی وینس کو ڈیل کیلئے یورپ بھیج رہے ہیں؟
سفارتی ذریعے نے امریکا کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر کی گئی حالیہ بمباری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بداعتمادی اس حد تک ہے کہ ایران کو سو فی صد یقین ہی نہیں تھا کہ معاملہ یہاں تک بھی پہنچےگا۔امریکا کی جانب سے جنگ کا آغاز ایران میں اہم ترین لیڈروں کے اجلاس کو نشانہ بنائے جانے سے کیے جانے کے سبب ایران میں بعض احتیاطی تدابیر پرسختی سے عمل کیا جارہا ہے، اس لیے بالکل آخری لمحات پر تمام صورتحال پر اعلیٰ ترین سطح پر غور وخوض کیاگیااور پھرریموٹلی ڈیجیٹل دستخط پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
مصدقہ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بطور ثالث پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کو بھی اس موقع پر موجود ہونا تھاجس کی تیاریاں مکمل تھیں۔



