ڈیلوئٹ آسٹریلیا کی 4.4 لاکھ ڈالر کیAIسے تیار شدہ رپورٹ میں سنگین غلطیاں

سڈنی(جانو ڈاٹ پی کے)ڈیلوئٹ آسٹریلیا نے ایک رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے بعد سنگین غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو جزوی رقم واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ رپورٹ آئی ٹی سسٹم سے متعلق تھی، جو فلاحی نظام میں جرمانے خودکار طور پر نافذ کرتا ہے، جیسے کہ بےروزگاری الاؤنس پر عارضی پابندیاں۔

یہ رپورٹ جولائی میں شائع ہوئی تھی، مگر ایک ماہ کے اندر ہی سڈنی یونیورسٹی کے معروف محقق ڈاکٹر کرسٹوفر رج نے اس میں متعدد غلطیوں کی نشاندہی کی، جن میں تین غیر موجودہ تعلیمی حوالہ جات اور ایک من گھڑت عدالتی اقتباس شامل تھے۔

ڈاکٹر رج کے مطابق یہ غلطیاں AI کی “ہیلوسینیشن” کا نتیجہ ہو سکتی ہیں، جہاں جنریٹیو AI فرضی حوالہ جات اور اقتباسات گھڑ لیتا ہے۔

ڈیلوئٹ نے اس معاملے پر باقاعدہ تبصرہ کرنے سے انکار کیا، تاہم رپورٹ کا نظر ثانی شدہ ورژن گزشتہ ہفتے خاموشی سے محکمہ روزگار و ورک پلیس ریلیشنز (DEWR) کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا، جس میں درجن سے زائد جھوٹے حوالہ جات حذف کر دیے گئے، فہرستِ مراجع دوبارہ مرتب کی گئی، اور ٹائپوگرافک غلطیاں درست کی گئیں۔

یہ واقعہ ڈیلوئٹ کے لیے خاصا شرمندگی کا باعث ہے کیونکہ ادارہ اپنی سالانہ 107 ارب ڈالر کی عالمی آمدنی میں سے ایک بڑا حصہ AI سے متعلق مشاورت اور تربیت سے کماتا ہے، اور عالمی سطح پر AI کے استعمال کو فروغ دیتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button