وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی سے روک دیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کارروائی سے روک دیا۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کیس میں حکام کے خلاف کارروائی کے فیصلے پر اپیل کی سماعت کی۔

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کارروائی سے روک دیا۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر، ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کیخلاف کارروائی پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع اور دیگر افسران کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں۔

جسٹس باقر نجفی نے استفسار کہا کہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم کس بنیاد پر دیا گیا؟ کیا تعین ہوگیا تھا کہ لاپتہ شخص سرکاری تحویل میں ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دگل نے کہا کہ عدالت کے پاس ایسا کوئی مواد نہیں تھا جس سے یہ تعین ہوتا، عدالت میں لاپتہ شخص کے اہلخانہ نے سرکاری تحویل میں ہونے کا بیان حلفی دیا تھا، متعلقہ افسران نے جوابی حلف نامے بھی دیئے تھے کہ لاپتہ شخص سرکاری تحویل میں نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت نے حبس بیجا کے کیس میں افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا، محکمانہ کارروائی نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی بھی جاری ہے، حبس بیجا کے کیس میں ہائیکورٹ اس نوعیت کا حکم نہیں دے سکتی، افسران کی انٹراکورٹ اپیل ہائی کورٹ نے ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی۔

بعدازاں آئینی عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری ساجد الرحمان کی سرکاری تحویل سے رہائی اور افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button