لمحہ امتحان آن پہنچا:سعودی عرب کی پکار پر پاکستان ایران کے سامنے کھڑا ہونے کو تیار؟

لاہور/مانیٹرنگ ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے پاکستان کو ایک کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ سینیئر تجزیہ کار معظم فخر کے مطابق، ایران کی جانب سے سعودی عرب کی آئل فیلڈز اور فضائی اڈوں پر حالیہ حملوں کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ موجود ‘مشترکہ اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے’ (Joint Strategic Defense Agreement) کو ایکٹیویٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ریاض میں سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ہونے والی ہنگامی ملاقات میں سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ان حملوں کو روکنے کے لیے اب پاکستان کو اپنے دفاعی وعدے پورے کرنے ہوں گے۔
تجزیے کے مطابق، پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی گمبھیر ہے کیونکہ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ ‘مشترکہ دفاع’ کا معاہدہ ہے جس کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہوتا ہے، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور گیس پائپ لائن جیسے بڑے منصوبے وابستہ ہیں۔ وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو سفارتی ذرائع سے باور کرایا ہے کہ وہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ اس جنگ میں فریق بننے کے بجائے ایران کو قائل کرے، تاہم اگر سعودی عرب پر حملے جاری رہے تو پاکستان کے لیے غیر جانبدار رہنا مشکل ہو جائے گا۔
مزید تفصیلات کے لیے سینیئر تجزیہ کار معظم فخر کا یہ وی لاگ دیکھئے:




