21گھنٹے طویل مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ /جانو ڈاٹ پی کے)اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات 21 گھنٹے طویل نشستوں کے بعد بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف کے درمیان ہونے والی گفتگو میں کئی حساس معاملات پر ڈیڈ لاک رہا، جس کے باعث تاحال کسی تحریری معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے۔ تاہم، بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے "مکمل ناکامی” قرار دینا قبل از وقت ہے، کیونکہ دونوں فریقین نے سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے اور مثبت ایجنڈے کے ساتھ دوبارہ بیٹھنے پر اتفاق کیا ہے۔
مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ جوہری پروگرام اور یورینیم کی افزودگی سے متعلق امریکی مطالبات بنے۔ امریکہ نے ایران سے ضمانت مانگی کہ وہ مستقل طور پر یورینیم کی افزودگی سے دستبردار ہو جائے، جبکہ ایرانی وفد نے ان مطالبات کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ جب تک ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں، وہ کسی یکطرفہ مطالبے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے ایران کے لیے کچھ "پرکشش پیشکشیں” چھوڑی ہیں جن پر تہران کو غور کرنا ہوگا۔ دوسری جانب ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ دہائیوں پر محیط بداعتمادی ایک ہی نشست میں ختم نہیں ہو سکتی، لیکن پاکستان نے مذاکرات کے لیے جو پلیٹ فارم مہیا کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔
اس وقت سب سے بڑی تشویش جنگ بندی (Ceasefire) کی مدت کے حوالے سے ہے، جو 8 اپریل سے شروع ہوئی تھی۔ اگر بقیہ دنوں میں کوئی بڑا بریک تھرو نہ ہوا تو خطے میں دوبارہ جنگ کے بادل چھا سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان ایئر فورس کے طیاروں کی سعودی عرب روانگی کی خبروں کو بھی دفاعی حلقوں میں اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اتحادیوں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان اب بھی چین اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر کوشش کر رہا ہے کہ فریقین کو کسی سمجھوتے پر لایا جائے تاکہ تیسری عالمی جنگ کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔
اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور کی اندرونی تفصیلات، امریکی مطالبات اور ایران کے دوٹوک موقف پر امداد سومرو کا مکمل تجزیہ اس لنک پر ملاحظہ کریں۔




