پنگریو کے مرکزی وین اسٹینڈ پرمبینہ قبضے کی کوشش،وین مالکان اورڈرائیورزکا احتجاج

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)پنگریو کے مرکزی وین اسٹینڈ پرمبینہ قبضے کی کوشش ۔ تنازع نے سنگین صورتحال اختیار کر لی، وین مالکان اور ڈرائیوروں نے احتجاجی مظاہرہ، ہنگامی پریس کانفرنس اور غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے پنگریو سے حیدرآباد، بدین، ٹنڈو محمد خان، میرپورخاص اور دیگر شہروں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند کر دی۔ ٹرانسپورٹ معطل ہونے سے سینکڑوں مسافر وین اسٹینڈ پر پھنس کر رہ گئے، جبکہ خواتین، بچوں، بزرگوں، ملازمین، اور مریضوں کو شدید مشکلات، ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وین ڈرائیور سلیم پنہور، علی زیب میمن اور دیگر ٹرانسپورٹرز نے الزام عائد کیا کہ مقدمات میں مفرور اور عدالتوں کو مطلوب ملزم ایوب زنگیجو مبینہ طور پر وین اسٹینڈ پر زبردستی قبضہ کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ شخص اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نہ صرف وین اسٹینڈ کا ماحول خراب کر رہا ہے بلکہ خونریزی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس کے باعث وین مالکان، ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں اور روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور کسی بھی وقت کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو معمولی تنازع کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وین اسٹینڈ پر قانون کی مکمل عملداری یقینی بنائی جائے، مبینہ طور پر دھمکیاں دینے والے عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش سفری مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔ احتجاجی ٹرانسپورٹرز نے آئی جی سندھ۔ ایس ایس پی بدین، ڈپٹی کمشنر بدین اور سیکریٹری آر ٹی اے سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، انصاف فراہم کیا جائے اور وین اسٹینڈ پر امن و امان بحال کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک انہیں مکمل تحفظ اور انصاف کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، اس وقت تک پنگریو سے حیدرآباد، بدین، ٹنڈو محمد خان، میرپورخاص اور دیگر شہروں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی ہڑتال جاری رہے گی، جس کے باعث عوام کو پیش آنے والی مشکلات کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button