سندھ میں ڈاکوؤں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کا اعلان، کچے میں فوج کی ضرورت نہیں، وزیر داخلہ سندھ

سکھر (جانوڈاٹ پی کے)سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء حسین لنجار نے کہا ہے کہ سندھ میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کیا جائے گا، جبکہ اس وقت کچے کے علاقوں میں فوج کی تعیناتی کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سندھ پولیس آپریشن کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈی آئی جی سکھر آفس میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ اجلاس میں کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ افراد اور ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ امن و امان کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ کچے میں آپریشن سست پڑ گیا ہے، اب ہم فیصلہ کن کارروائی کی طرف جا رہے ہیں۔ اس وقت آپریشن کا مرکزی ہدف کشمور اور گھوٹکی کے علاقے ہیں، جہاں ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ضیاء حسین لنجار نے واضح کیا کہ جو ڈاکو ہتھیار ڈالیں گے ان کے ساتھ قانون کے مطابق نرمی برتی جائے گی، تاہم جو خود کو چیمپئن سمجھتے ہیں اور مزاحمت کریں گے، انہیں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ سندھ پولیس اور رینجرز مشترکہ طور پر آپریشن کر رہے ہیں اور پولیس کو جدید اسلحہ اور تمام ضروری سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں فوج کی ضرورت نہیں، پولیس اور رینجرز کافی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشوکو کا علاقہ جغرافیائی طور پر سندھ کے اندر آتا ہے تاہم انتظامی طور پر پنجاب کا حصہ ہے، اس حوالے سے آئی جی سطح پر سندھ اور پنجاب پولیس کے درمیان رابطے ہوں گے۔ آئی جی سندھ، آئی جی پنجاب سے بات چیت کر کے مشترکہ حکمت عملی طے کریں گے تاکہ بین الصوبائی تعاون کے ذریعے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔



