وزیرآباد: خاتون ٹیچر کی موت کا ڈراپ سین، سسرال کے 5 افراد پر قتل کا مقدمہ درج

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے) ظلم و بربریت کی انتہا دو روز قبل پھندے سے جاں بحق ہونے والی خاتون کے قاتل اس کے سسرال والے نکلے،خاتون کے شوہر،جیٹھ،دیور، نند  اورساس کے خلاف مقدمہ درج۔وزیرآباد کے علاقہ کوٹ شاہ محمد کی رہائشی خاتون اور نجی تعلیمی ادارہ کی ٹیچر کو اس کے سسرال والوں نے مبینہ طور پر پھندا دے کر قتل کر ڈالا خاتون کے بھائی کی مدعیت میں خاتون کے شوہر اس کے جیٹھ،دیور،نند،ساس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا خاتون کے بھائی نے الزام لگایا کہ میری ہمشیرہ کے سسرال والے اکثر اور بیشتر اس کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے جس کے متعلق وہ ہمیں آگاہ کرتی رہتی تھی لیکن پھر معاشرتی رسم ورواج کی وجہ سے اپنا گھر بچانے کی خاطر یہ ظلم و تشدد برداشت کرتی رہی اسی کی تنخواہ سے گھر کے اخراجات چلتے تھے میری ہمشیرہ کو جیٹھ اعجاز احمد اور اس کی بیوی روبینہ، دیور شہباز احمد اور ساس ثریا بی بی شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے  مجھے میری ہمشیرہ کی کال آئی کہ میرا خاوند اخلاق احمد ساس ثریا بی بی جیٹھ اعجاز احمد جیٹھانی روبینہ بی بی اور دیور شہباز تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں جس پر میں  محمد شہباز ولد محمد لطیف قوم کو کھر سکنہ محلہ چوہدریاں سوہدرہ فوری طور پر اپنی ہمشیرہ کے گھر پہنچاتو دیکھا کہ اخلاق احمد وغیرہ متذکرہ بالا میری ہمشیرہ سے تلخ کلامی اور گالی گلوچ کر رہے تھے ہمیں دیکھ کر میری ہمشیرہ اور بہنوئی اخلاق وغیرہ نے کہا کہ یہ ہمارا گھر یلو معاملہ ہے آپ چند منٹ باہر رکیں ہم آپس میں معاملہ طے کر لیتے ہیں جو بہن کا گھر بچانے کی خاطر ہم باہر آگئے چند منٹ بعد چیخ و پکار کی آواز سن کر اندر گئے تو دیکھا کہ اخلاق احمد اور اعجاز احمد نے میری ہمشیرہ کے بازو پکڑے ہوئے تھے جبکہ ساس ثریابی بی اور جیٹھانی روبینہ بی بی نے ٹانگیں پکڑی ہوئی تھیں جبکہ شہباز احمد نے اس کے گلے میں پھندہ ڈالا ہوا تھا میری ہمشیرہ جاں بحق ہو چکی تھی ملزمان ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے میری ہمشیرہ کو میرے بہنوئی اخلاق احمد عرف فلک شیر 2- اعجاز احمد 3- روبینہ بی بی 4۔ شہباز احمد 5- ثریابی بی نے زبر دستی پھندہ دیکر قتل کیا ہے ملزمان نے میری ہمشیرہ کو قتل کر کے سخت زیادتی کی پولیس نے خاتون کے بھائی ندیم  کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button